میرے ساتھ یہ کیا ہو رہاہے

میرے ساتھ یہ کیا ہو رہاہے

محمد اسعد اقبال
استاذ مدرسہ اشرف العلوم ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹرہاؤڑہ ویسٹ بنگال

میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہوں، میں گنگا جمنی تہذیب کی علم بردار ہوں، یہی میری پہچان ہے اور یہی میرا تعارف ہے۔ میرا دستور دنیاوی دستوروں میں سب سے بڑا دستور ہے، میرا دستور ایک ایسا مضبوط قلعہ ہے جو اپنے رہنے والے کو ہرطرح کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔

میں وہ چمن ہوں جس میں ہر طرح کے پھول ہیں اور جس میں مختلف لب و لہجے کے ساتھ گیت گانے والے قمری و عنادل ہیں۔ یہی میرے گلستاں کی خوبصورتی ہے، میری سرسبزوشادابی کے لیے میرے خالق نے میرے دامن میں نہروں کا ایک ایسا سلسلہ جاری کردیا جو ہروقت میری تشنگی کو بجھا تے رہتے ہیں۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے ہی میں اوروں سے ممتاز ہوں اور جس کی وجہ سے دنیا مجھے رشک بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے۔ لیکن میری شاخوں پر کچھ ظالم بازوں نے بھی آشیانے بنالیے ہیں جنہیں یہ حسین مناظر راس نہیں آرہے ہیں، ان کا وجود ہی حسن و جمال اور خوبصورتی کو ختم کرنے کے لیے ہوا ہے۔ وہ مسلسل یہاں کی اخوت و بھائی چارگی اور محبت کو نفرت کی آگ میں جلانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ اپنے ظلم وبربریت کی بدولت میرے اوپر حاوی ہوتے جارہے ہیں، اور جگہ جگہ اس نفرت کی آگ کو لگانے میں لگے ہوئے ہیں۔ میں نے جو سب کو برابر کے حقوق دیے ہیں ان حقوق کو چھیننے کی کوشش کررہے ہیں۔

جو برسوں سے میری آغوش میں پلتے آرہے ہیں، جنہوں نے میرے سائے تلے اپنی آنکھیں کھولیں اور میری ڈالیوں پر کھیل کود کر پروان چڑھے، میرے تحفظ کی خاطر کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوئے، میرے دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے، جن کے آباؤ اجداد نے  فرنگی طاغوتوں سے مجھے نجات دلائی، جن کے آباؤ اجداد 1857 سے لے کر میری آزادی تک موت کا جام پیتے رہے، انہیں میرے دامن سے جدا کرنے کی سعی کی جارہی ہے، انہیں یہاں سے دربدر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے، ایک نیا قانون بناکر میری وسعت کو ان کے لیے تنگ کیا جارہا ہے ۔

میری شاخوں پر اڑنے والی تتلیاں بھی محفوظ نہیں ہیں، ظالم نگاہیں انہیں بھی دبوچ رہی ہیں اور اپنی پیاس بجھارہی ہیں، اور یہ مجرمین اپنی طاقت کے بل پر آزادانہ گھوم رہے ہیں، ان سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے، کشمیر, اناؤ، دہلی حیدرآباد غرض کی میرا کوئی بھی گوشہ ان درندوں سے محفوظ نہیں ہے، وہ آٹھ سالہ آصفہ ہو یا بائیس سالہ ڈاکٹر پرینکا ریڈی کسی کو بھی ان ہوس کے پجاریوں نے نہیں بخشا ۔ یہ معصوم تتلیاں چیختی ہیں چلاتی ہیں اپنی عفت و عصمت کی دہائی دیتی ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس سے ان کے سیاہ دلوں کو مزید تسکین پہنچتی ہے۔ ان کی حمایت میں اٹھنے والی آواز کو  لاٹھیوں سے خاموش کیاجارہاہے ، انہیں زندان میں دھکیل کر  ان کی زبانوں پر تالے لگائے جارہے ہیں، میں انصاف کی دہائی لے کر جاؤں تو کہاں جاؤں انہوں نے تو میری مسند پر ہی قبضہ کرلیا ہے، یہاں تو وہی منصف ہیں، وہی حاکم ہیں اور وہی عادل ہیں۔ اب تو میرا خالق ہی میری ان معصوم تتلیوں کا نگہبان ہے وہ ان ظالموں سے ضرور بدلہ لے گا، اس لیے کہ ظلم کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے ۔

 کسی مظلوم  کی آہ و فغن  کوئی  نہیں سنتا

یہ بستی پتھروں کی ہے یہاں کوئی نہیں سنتا

عدل کی بھیک لینے جا رہے ہو جس کے در پہ تم

وہاں  سب  لوگ  بہرے  ہیں وہاں  کوئی نہیں سنتا

تہہ دل  سے  پُکار  اپنے  خدا  کو  حالت غم  میں

کے وہ اس جا بھی سنتا ہے جہاں کوئی نہیں سنتا

اور اب تو میرے دستور کو ہی بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے، میرے اس دستور کو جس کی بنیاد ہی گنگا جمنی تہذیب پر ہے، میرے اس دستور کو جس کی وجہ سے ہرایک کو ہرطرح کا حق اور ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔ میری جمہوریت پر تلوار چلائی جارہی ہے، مسند اقتدار کی خاطر مجھے داغدار کیا جارہا ہے ، راتوں رات ایسے فیصلے لیے جارہے ہیں جو مجھے دنیا کے سامنے بدنام کررہے ہیں۔ میرے خزانوں کو لوٹا جارہا ہے ، میرے اثاثوں کو بیچا جارہا ہے اور مجھے غریب، مفلس اور محتاج بنایا جارہا ہے،جس کی وجہ سے بھکمری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور بھوک کی وجہ سے میں اپنی اولاد سے محروم ہوتی جارہی ہوں؛ لیکن انہیں احساس تک نہیں ہوتا اس لیے کہ یہ اس فرعون کے پیروکار ہیں جس نے ہزاروں ماؤں کو ان کی ممتا سے محروم کردیا تھا یہ ان تاتاریوں کے بھائی ہیں جنہوں نے انسانی کھوپڑیوں پر اپنا ممبر نصب کیا تھا۔

کہاں ہیں میرے رکھوالے؟ کہاں ہیں میرے باغبان؟ کیا وہ سورہے ہیں یا خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں؟ کیا میری چیخ ان کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی ہیں؟ کیا میری آہیں انہیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں ہیں؟ کیا وہ اس وقت بیدار ہوں گے جب سب کچھ لٹ چکا ہوگا، جب سب کچھ ختم ہوچکا ہوگا؟ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ وہ جب بیدار ہوں گے تو وہ رات بھی آخری رات ہوگی اور وہ صبح بھی آخری صبح ہوگی۔

نئی صبح چاہتے ہیں نئی شام چاہتے ہیں

جو یہ روزوشب بدل دے وہ نظام چاہتے ہیں