شہریت (ترمیمی) بل، 2019 ( کیب ) کاخلاصہ

شہریت (ترمیمی) بل، 2019 ( کیب ) کاخلاصہ 
 
شہریت ایکٹ 1955 میں مزید ترمیم کرنے کے لئےجمہوریہ ہند کے اڑسٹھویں سال میں پارلیمنٹ کے ذریعہ اس کو نافذ کیا جائے:
 
ایسٹرن کریسینٹ نیوز ڈیسک
 
(1)    اس ایکٹ کو شہریت (ترمیمی) ایکٹ، 2019 کہا جائے گا. 
(2)     یہ اس تاریخ سے نافذ ہوگا جب مرکزی حکومت، اطلاع نامہ کے ذریعہ سرکاری گزٹ میں اعلان کرے-
(3)     شہریت ایکٹ، 1955 میں(جو پرنسپل ایکٹ ہے)، میں دفعہ 2 ، ذیلی سیکشن (1) میں، شق (بی) کے بعد ، درج ذیل امور کو داخل کی جائیں،
یعنی: -  وہ شخص جو پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کی اقلیتی برادری سے تعلق رکھتا ہو یعنی ہندو،سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی جو 31 دسمبر 2014 سے قبل بھارت میں داخل ہوا ہو اور  جس کو مرکزی حکومت نے پاسپورٹ (ہندوستان میں داخلہ) ایکٹ 1920 کے سیکشن 3 کے ذیلی سیکشن (2)  شق (سی) کے ذریعہ یا اس کے تحت یا فارن ایکٹ 1946 یا اس جیسے قانوں سے چھوٹ دی ہے- ایسے شخص کو اس ایکٹ کے مقاصد کے تحت غیر قانونی تارکین وطن نہیں گردانا جائے گا:
( 4)   اس قانون کا کوئی بھی حصہ آسام، میگھیالیہ، میزورام اور تری پورہ کے ٹرایبل علاقےپر نافذ نہیں ہو گا. 
(5)    شہریت ایکٹ میں جہاں گیارہ سال سے کم  نہ ہونےکا ذکر ہے وہاں اب پانچ سال سے کم نہ ہو لکھا جائے گا.