مولانابد رالدین اجمل نے شہریت ترمیمی قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا

مولانابد رالدین اجمل نے شہریت ترمیمی قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا

(ایسٹرن کریسینٹ نیوز ڈیسک)

نئی ہلی: (16، دسمبر 2019): آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے قومی صدر و ررکن پارلیمنٹ اور جمعیۃ علماء صوبہ آسام کے صدرمولانا بدر الدین اجمل نے آج متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ (ڈائری نمبر 45503/2019) فا ئل کردیا ہے ۔

مولانا اجمل نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون چونکہ ہندوستان کے دستور کے خلاف ہے، اس لئے اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے اور پورے ہندوستان کے لوگ اس کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت اور سیکولرزم ابھی زندہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ اب قانون بن چکا ہے اسلئے ملک کی عدالت عظمی میں اس کو چیلنج کرنا اور اس کو کالعدم قرار دینے کی کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے اسلئے ہم لوگوں نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بہت خوشی کی بات ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس لڑائی کو سنسد سے لیکر سڑکوں پر اور اب عدالت میں جاری رکھا ہے اور یہی اس مغرور سرکار کی شکست کی شروعات ہے ۔

انہوں نے مزید یہ کہا کہ ہم لوگ آسام میں شہریت سے متعلق سینکڑوں مقدمات مختلف عدالتوں میں لڑتے آرہے ہیں ، اسی طرح این آر سی سے متعلق درجنوں مقدمات ہم نے سپریم کورٹ میں لڑا ہے ، اوریہ تمام مقدمات ہم نے جمعیۃ علماء صوبہ آسام کے پلیٹ فارم سے لڑا ہے، اسلئے ہم لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مقدمہ بھی ہم جمعیۃ علماء صوبہ آسام کے پلیٹ فارم سے ہی لڑیں گے،اسلئے ہمارے وکلاء نے آج پٹیشن دائر کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  ہمیں امید ہے کہ عدالت سے اس غیردستوری قانون کے خلاف انشا ء اللہ کامیابی ملے گی ۔