ممبئی میں بڑے پیمانے پراحتجاجی ریلی کا فیصلہ

سی اے اےکےخلاف جو گیشوری ،ممبئی میں بڑے پیمانے پراحتجاجی ریلی کا فیصلہ

ایسٹرن کریسینٹ نیوز ڈیسک

ممبئی،17/دسمبر:  لوگ سبھا و راجیہ سبھا سے منظورشدہ  شہریت ترمیمی بل کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی سلسلہ جاری ہے، ملک کے ہر صوبے اور چھوٹے بڑے شہروں میں بلا تفریقِ مذہب عوام اس بل کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ اسی ضمن میں گزشتہ کل بروز پیر بعد نماز عشاء مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر جوگیشوری،ممبئی میں شہر کے سرکردہ شخصیات کی ایک اہم  مشاورتی میٹنگ بلائی گئی، جس میں مختلف مذاب،مسالک٬جماعتوں٬جمعیتوں اورمختلف اداروں٬تنظیموں اورکلبوں سے تعلق رکھنے والے معزز شخصیات نے بڑی تعدا د میں شرکت کی۔

میٹنگ کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے مرکزالمعارف کے انچار ج مولانا عتیق الرحمن قاسمی  نے میٹنگ کا مختصر خاکہ پیش کیا ، بعد ازاں مرکزالمعارف کے ڈائریکٹر مولانا محمد برہان الدین قاسمی نے  CAA  کے ملک پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا بالتفصیل  ذکر کیا اور مثال سے اس بات کی وضاحت کی کہ کس طرح یہ قانون ہندومسلم کے درمیان منافرت پیدا کرنے والاہے،جو یقینی طور پر ہمارے دستور کے آرٹیکل 14-15  اور 25 کے خلاف ہے۔ اِس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئےانہوں نے زور دیتے ہوئےکہا کہ ہم سب  کی ذمہ داری ہے کہ اپنے  دستور کی حفاظت کی خاطر یک جٹ ہوکر اس سیاہ قانون کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ آج ہم سب اسی لیے جمع ہوئے ہیں کہ کس طرح اس سیاہ قانون کے خلاف ایک منظم ،پر امن،عظیم احتجاج درج کراکر حکومت سے اس سیاہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کریں۔

میٹنگ میں باہمی مشورے سے مندرجہ ذیل امور طے کیے گئے:

(1)     20/دسمبر کو بعد نماز جمعہ احتجاج کیا جائے۔ (2) احتجاج طویل مارچ کی شکل میں ہو۔ (3) یہ مارچ جوگیشوری کے اندر ہوگا اور اوشیواڑہ کے ساحل ہوٹل سے نکل کر ریلیف روڈ کے راستے اے ون دربار سے نکل کر اجیت گلاس ہوتے ہوئے صابری مسجد جوگیشوری ریلوے اسٹیشن پر ختم ہوگا۔

 

اس مارچ کو مؤثر بنانےکے لیے مختلف آراء پیش کی گئیں ۔ شیوسینا سے کارپوریٹر راجولا تائی نے کہا کہ علاقے کی تمام مساجد میں اس کا اعلان کیا جائے،ملک کو بچانے کی خاطر سب کے ساتھ مل کر یہ ریلی نکالی جائے؛ یہ نہ دیکھا جائے کہ کون ہندو ہے کون مسلمان، کون دیوبندی ہے کون بریلی اور شیعہ ، سب مل کر ایک ساتھ اس ریلی کو کامیاب بنا نے کی کوشش کریں۔

 

 اس مشاورتی میٹنگ میں  علاقے مختلف حلقوں سے  گیارہ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ؛ تاکہ ریلی کو منظم  طریقے سے کامیاب اور زیادہ سے زیادہ افراد کی شرکت کو یقینی بنایا جاسکے۔