جلتی رات سلگتی آگ

جلتی رات سلگتی آگ

 محمد اسعد اقبال قاسمی

جیسے جیسے وہ رات اپنی دبیز چادر پھیلاتی جارہی تھی اور دوڑ دھوپ، شور وشغب والا ماحول ایک پرسکون فضا میں تبدیل ہوتا جارہا تھی ویسے ویسے کچھ درندہ صفت انسان اس پرسکون فضا میں زہر گھولنے کی تیاری کررہے تھے، اور اپنے طاغوتی فوجوں کو اپنے منصوبے کی مکمل جانکاری دے رہے تھے، اور یہ ہدایت دے رہے تھے کہ اس مرتبہ ہمارا نشانہ نہ صرف وہ لوگ ہوں گے جنہیں ہم نے اٹھارہ سال پہلے مٹانے کی کوشش کی تھی؛ بلکہ ہر وہ شخص ہمارا ہدف ہے جو ہمارا مخالف ہے۔ ہاں لیکن ایک بات یاد رکھنی ہے کہ اپنا مشن مکمل ہونے کے بعد ہمارا دوسرا کام پروپیگنڈہ کا ہے جس میں ایک سادہ بھولا بھالا انسان بن کر ایک خاص طبقے کے خلاف افواہ پھیلانا ہے، اور یہ وہی طبقہ ہے جسے ہم نے کئی مرتبہ ختم کرنے کی کوشش کی؛ لیکن اس مرتبہ پورا کام تمام کرنا ہے۔

اور ۔۔۔۔۔۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا شہر جلنے لگا، معصوم پھولوں کی آہ و بکا اور خواتین کے چیخ و پکار سے پوری فضا گونجنے لگی، پھول سے چہروں پر ہونے والی خوشیوں کی بارش اچانک رک گئی،  قبل اس کے کہ وہ  کچھ سمجھتے کئی ہنستی کھیلتی زندگیاں ختم ہوچکی تھیں، ہرطرف افراتفری کا ماحول تھا، خوف دہشت کا پہیہ تیز گامی کے ساتھ گھوم رہا تھا،  لوگ گھروں سے بھاگنے لگے، ان میں وہ مائیں اور بہنیں بھی تھیں جن کے دیدار کو چاند تارے بھی درستے تھے، آج وہ  بغیر پردے کے جان بچانے کی کوشش میں ادھر ادھر چھپنے لگیں۔ آہستہ آہستہ چیخ و پکار میں اضافہ ہوتا جارہا تھا، ہرطرف آگ ہی آگ، کسی کا گھر جل رہا تھا تو کسی کی دوکان جل رہی تھی۔ اور ایک مرتبہ پھر انسانیت کا قتل عام ہورہاتھا، شہر اماں میں ظلم و بربریت کا ننگا ناچ جاری تھا، انسانیت ان سنگھی غنڈوں کے وجود سے شرمسار ہو رہی تھی، لیکن  پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی اوربحیف صد حیف کہ اپنے آپ کو انسانیت کا سب سے بڑا علمبردار کہنے والا بھی تو اس رات وہیں تھا؛ آج  اسے کیا ہوگیا تھا؟ کیا اسے یہ خبر نہیں پہنچی تھی؟

یہ آگ اتنی شدید تھی کہ پورے دو دن تک شہر کو جلاتی رہی، زخمیوں کے آہ و فغاں سے پوری فضا گونجتی رہی؛ معصوم کلیاں اپنے وجود کے لیے تڑپتی رہی، لیکن کہیں کوئی انسانیت کا مسیحا نظر نہیں آیا، وہ پولیس والے جو لوگوں کی حفاظت کا حلف اٹھاتے ہیں نظر تو آرہے تھے لیکن آج نمک خوری کا فریضہ انجام دے رہے تھے، وہ مدد تو کررہے تھے لیکن ان لوگوں کی جو انسانیت کا قتل کررہے تھے، وہ حفاظت تو کررہےتھے لیکن ان لوگوں کی جو ماؤں کو ان کے جگر کے ٹکڑے سے اور بچوں کو ان کی ممتا سے محروم کررہےتھے، وہ پشت پناہی تو کررہے تھے لیکن ان درندوں کی جو باحیا دوشیزاؤں سے حیا کی چادر چھین رہے تھے۔

آگ ختم ہوجاتی ہے، پوری آبادی کھنڈرات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایک تین سالہ معصوم سی کلی کہنے لگتی ہے میرے ابو ہسپتال میں ہیں وہ جب آئیں گے تو میں ان کے ساتھ کھیلوں گی، ایک اور جگہ سے آواز آتی ہے کہ میرے ابو دودھ لانے گیے ہیں اب آتے ہی ہوں گے، لیکن انہیں کیا معلوم کہ ان کے ابو اب کبھی نہیں آئیں گے، وہ مائیں جو اپنے جواں سال بچوں کا شدت سے انتظار کررہی تھیں ان کے سامنے اب ان کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔

 

ہر ایک شاخ تھی لرزاں فضا میں چیخ و پکار

ہوا کے ہاتھ میں اک آب دار خنجر تھا

 وہ دیکھو اب چینلز والے بھی نظر آرہے ہیں، بڑے بڑے کیمرے لیے ادھر ادھر بھاگ رہےہیں، اور زخموں میں تڑپتے انسانوں کی تصویریں لے رہےہیں، کیوں؟ معلوم نہیں۔ مگر دودن تک کہاں تھے؟ کیا ان کا کیمرہ خراب ہوگیا تھا یا کچھ اور!!!!!

 ہسپتال کا نظارہ بھی عجیب ہے، ہرطرف ایمبولینسوں کا شور ہے،  لوگوں کی سسکیاں ہے، آنسو ہیں، آہیں ہیں، سب کچھ تو ہے لیکن۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ ڈاکٹرز نہیں ہیں جو خدمت خلق کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ اے امن کے پجاریوں! اے انسانیت کے علمبردارو! اگر کچھ نہیں‌کر سکتے تو بیچ میں سے ہٹ جاؤ تاکہ یہ خود ہی اپنے لیے خوشیاں کشید کر سکیں، اپنے سکھ اور آرام کو خود ہی تلاش کرسکیں ، تمھاری امید انہیں کچھ نہیں کرنے دیتی۔