مرکز المعارف سے ملحقہ اداروں کا داخلہ امتحان اختتام پذیر

مرکز المعارف سے ملحقہ اداروں کا داخلہ امتحان اختتام پذیر

ملک بھر سے فضلاء مدارس کی امتحان میں شرکت

ایسٹرن کریسینٹ نیوزڈیسک

دیوبند: 15 مارچ: گذشتہ کل دیوبند میں مرکز المعارف سے ملحقہ کل چھ مراکز کے لیے امتحان داخلہ بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا جس میں ملک بھر سے چھ سو سے زائد طلباء نے شرکت کی اور 125 پچیس طلباء کا فائنل لسٹ اور 75 طلباء کا ویٹنگ لسٹ میں دو سالہ ڈپلوما کورس برائے انگریزی زبان و ادب انتخاب عمل میں آیا۔واضح رہے کہ یہ امتحان دو مرحلوں میں منعقد ہوتا ہے، پہلے مرحلے کے تحریری امتحان میں پاس ہونے والے طلباء تقریری امتحان میں شرکت کے مجاز ہوتے ہیں۔ پھر تقابل کی بنیاد پر ہر سینٹر کے لیے طلباء کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ اس کورس کا تصور حضرت مولانا بدر الدین اجمل القاسمی رکن شوری دارالعلوم دیوبند نے 1994 میں پیش کیا تھا اور اس کا مقصد یہ تھا کہ مدارس کے فضلاء عصر حاضر کے تقاضوں سے لیس ہو کر ملت کی رہنمائی کا فریضہ ملکی و عالمی سطح پر بحسن و خوبی انجام دے سکیں۔

مرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کے اس ڈپلوما کورس کے نیشنل کوآرڈی نیٹر مولانا مدثر احمد قاسمی نے بتایا کہ داخلہ امتحان میں ملک بھر کے مستند دینی مدارس کے فضلاء نے شرکت کی اور یہ امتحان ہیرا گارڈن دیوبند کے وسیع و عریض ہال میں منعقد ہوا جس میں بطور نگراں رام نگر کرناٹک سے مولانا سمیع اللہ ندوی، گجرات سے مولانا ارشد اشاعتی، ہوجائی آسام سے مولانا سیف الاسلام قاسمی، المعہد العالی الاسلامی حیدر آباد سے مولانا ارشد، ہاوڑہ کلکتہ سے مولانا موسی کلیم اللہ قاسمی اور مظفر آباد سہارنپور سے مولانا عتیق احمد ندوی نے شرکت کی۔

منتخب طلباء کے اجتماعی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے دار العلوم دیوبند کے شعبہ انگریزی کے نگراں مولانا توقیر احمد قاسمی نے فرمایا کہ اس کورس نے عصر حاضر کے ایک اہم تقاضے کو پورا کیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ نئے منتخب شدہ طلباء بھی اس کورس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ملی قیادت کا فریضہ انجام دیں گے۔

واضح رہے کہ مولانا محمد برہان الدین قاسمی کے ڈائریکٹر شپ میں تمام ملحقہ ادارے تعلیمی معیار کو روز افزوں پروان چڑھا رہے ہیں اور ان کے کام کا دائرہ صحافت، سیاست، قیادت، تعلیم و تعلم، سماجی خدمت اور دیگر میدانوں میں بھی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ قومی سطح کے اس داخلہ امتحان کے انعقاد میں مفتی محمد اللہ قاسمی، مولانا حفظ الرحمن قاسمی، مولانا توقیر احمد قاسمی، مولانا حسین احمد قاسمی، مولانا اسجد عقابی، مفتی سجاد حسین قاسمی اور دیگر وابستگان ایم ایم ای آر سی نے گرانقدر تعاون پیش کیا۔