انسانی زندگی پر روزہ کے اثرات

انسانی زندگی پر روزہ کے اثرات

 از  شفیع الرحمن قاسمی

        ابھی ہم لوگ  ماہ شعبان کے آخری مرحلے میں ہیں اور چند روز بعد انشاءاللہ ہم رمضان المبارک کا استقبال کریں گے.یقینا رمضان کے مہینے کو پالینا بہت بڑی خوش بختی کی بات  ہے.اس ماہ کے اندر روح میں ایسی لطافت پیدا ہوتی ہے جو بندے اور اللہ کے درمیان کے تعلق کو کافی مضبوط بنادیتاہے جس کے اثرات کا ظہور اس ماہ میں اللہ تعالی کی بےپایا رحمتوں اور برکتوں کا بندوں کی طرف متوجہ ہونا ہے.روزہ کا مقصد اصلی بھی یہی ہے کہ روح  کی کثافت لطافت میں تبدیل ہوجائے تاکہ رجوع الى اللہ میں آسانی ہو.اسی مقصد کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ماہ کو صبر کا مہینہ بتایا ہے.آپ نے فرمایا:(شهر الصبر وثلاثة أيام من كل شهر صوم الدهر).بیشک اسلام فطرت کا ایک عظیم عکس ہے جس نے حیات انسانی کے لئے ایسے طریقے مرتب کیا ہے جس پر انسان گامزن ہوکر نہ یہ کہ زندگی کا مطلب سمجھتا ہے بلکہ وہ زندگی کے مقصد سے بھی ہمکنار ہوجاتا ہے.اسلام نے اپنے شیدائیوں کو جہاں زندگی کی تمام تر لذات سے لطف اندوز ہونے کی اجازت دی ہے وہیں "ولا تسرفوا"کا حکم دیکر اعتدال کے حدود کو پھلانگنے سے منع بھی کیا ہے.روح انسانی دو طرح کی ہوتی ہے روح حیوانی اور روح ربانی.انسان جب اپنی مادی ضروریات میں لگ جاتاہے تو اس سے روح حیوانی کو تقویت ملتی ہے اور وہ روح ربانی پر غالب آجاتا ہے،پھر اس کی وجہ سے انسان دنیا میں اتنا مشغول ہوجاتاہے کہ وہ نہ تو زندگی کا مطلب سمجھتا ہے اور نہ ہی اس کے مقصد سے باور ہوپاتا ہے،پیدا کرنے والے تو دور کی بات ہے وہ خود اپنی حقیقت کو بھی بھول جاتا ہے.

       بر محل اللہ تعالی نے ایک ابدی دستور العمل عنایت کیا جو نہ صرف عین فطرت ہے بلکہ اس کو اپنا کر انسان اپنے حقیقت کو پہچاننے کے ساتھ ساتھ اپنے مالک حقیقی کی معرفت بھی حاصل کرلیتا ہے.روزہ بھی اسلام  کا ایک اہم جزء ہے.جب انسان اشتہاء بطن و فرج سے باز رہتا ہے تو روح حیوانی پزمردہ ہوکر مغلوب ہوجاتی ہے اور روح ربانی میں لطافت پیدا ہوتی ہے.اور انسان فطرت سے ہم آہنگ ہونے لگتا ہے یہاں تک وہ زندگی کے مقصد کو پالیتا ہے.

     قرآن کریم میں اللہ تعالی نے روزہ کے مقصد کو "لعلكم تتقون "سے بیان کیا ہے،جس کا مطلب ہر اس چیز سے باز رہنا جو روح کی پرواز ترقی میں رکاوٹ ہو.کھانا،پینا،شہوت پوری کرنا اور وہ تمام کام کرنا جو روح کو کثافتوں اور آلائشوں کے دلدل میں پھنسا دے ایک روزہ دار کے لئے ممنوع ہے.یہی وجہ ہے کہ جب کوئی اپنی زندگی کے اکثر اوقات روزہ سے گزارتا ہے تو اس کے روح کی پرواز بہت بلند ہوتی ہے پھر اس کو دنیا کی تمام آسائش و لذات ہیچ لگتی ہے اور اس کے لئے شریعت مطہرہ پر عمل پیرا ہو نا بہت آسان ہوجاتا ہے.