شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سعید صاحب پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ کی وفات علمی دنیا کے لیے ایک عظیم خسارہ: مولانا بدرالدین اجمل

شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سعید صاحب پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ کی وفات علمی دنیا کے لیے ایک عظیم خسارہ: مولانا بدرالدین اجمل

ہماری خوش قسمتی ہے کہ مرکزالمعارف سے اوشیواڑہ مسلم قبرستان کی دوری مزار قاسمی اور احاطہ مولسری کی دوری سے بھی کم ہے، یہاں کے اساتذہ اور طلبہ  ضرور حضرت کے مزار پر حاضری دیتے رہیں گے: مولانا برہان الدین قاسمی

ممبئی۔ 20/مئی: (پریس ریلیز) ایشیا کی عظیم دینی درس گاہ، ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت اقدس مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری کی وفات حسرت آیات کا جو عظیم حادثہ 25 / رمضان المکرم 1441 بمطابق 19 مئی 2020 کو پیش آیا، اس سے پوری علمی دنیا ماتم کناں ہے۔ حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مختصر علالت کے بعد ممبئی کی سنجیونی اسپتال ملاڈ میں آخری سانس لی اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مرکزالمعارف کے بانی و صدر اور ممبر پارلیمنٹ و ممبر مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا بدرالدین اجمل صاحب نے اپنے تعزیتی کلمات میں حضرت مفتی صاحب کی وفات کو امت کے لیے عظیم خسارہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ دارالعلوم کے ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم سرمایہ تھے، قحط الرجال کے اس دور میں حضرت کی وفات سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہےکہ جس کی بھرپائی بمشکل ہی ہوپائے گی۔ مولانا اجمل صاحب نے مزید کہا کہ حضرت مفتی صاحب کی وفات پر صرف دارالعلوم کے اساتذہ و طلبہ اور حضرت کے اہل خانہ ہی نہیں بلکہ ہم تمام اس عظیم خسارے پر تعزیت کے مستحق ہیں کیوں کہ جہاں انہوں نے نصف صدی تک دارالعلوم میں تدریسی خدمات انجام دی وہیں حجۃ اللہ البالغہ، بخاری اور ترمذی شریف کی شرح کے علاوہ کئی بلند پایہ تصنیفی خدمات انجام دے کر امت پر احسان عظیم کیا۔ انہوں کہا کہ مرکز المعارف کے اساتذہ وطلبہ اوراجمل خاندان کے تمام افراد و کارکنان اس غم میں برابر کے شریک ہیں اور حضرت کی بلندئ درجا ت کے لیے دعا گو ہیں۔

مرکزالمعارف کے ڈائریکٹر مولانا برہان الدین قاسمی نے کہا کہ مفتی صاحب ہم سب کے مقبول و محبوب استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم رجال ساز ،مشفق اور ہم سب کے مہربان مربی بھی تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے اس دور میں ہم نے اپنی بساط بھر دعاؤں کا اہتمام کیا اور اس کے علاوہ بظاہر کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ لہذا جونہی حضرت کی وفات کی اطلاع ملی تو مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر اور ابنائے قدیم مرکز المعارف کے واٹس ایپ گروپ، جس میں دنیا بھر سے فضلائے دارالعلوم اورحضرت مفتی صاحب (رح) کے تلامذہ جڑے ہوئے ہیں، نے با قاعدہ تلاوت قرآن پاک کا سلسلہ شروع کیا اور حضرت کے ایصال ثواب کے لیے کئی قرآن مکمل کیے اور الحمدللہ یہ سلسلہ دن بھر جاری رہا۔ اسی طرح مرکز المعارف، ہوجائی آسام میں بھی ختم قرآن اور تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ واضح رہے کہ حضرت کی تدفین مرکزالمعارف سے متصل اوشیواڑہ مسلم قبرستان میں عمل میں آئی۔ حضرت کی قبر کی تیاری میں مرکز المعارف کے طلباء و اساتذہ نے حتی المقدور حصہ لینے کی سعادت حاصل کی اور کچھ تدفین میں بھی شریک ہوئے۔ تدفین کا عمل مکمل ہونے پر مولانا قاسمی نے کہا؛ ہماری خوش قسمتی ہے کہ مرکزالمعارف سے اوشیواڑہ مسلم قبرستان کی دوری مزار قاسمی اور احاطہ مولسری کی دوری سے بھی کم ہے، یہاں کے اساتذہ اور طلبہ  ضرور حضرت کے مزار پر حاضری دیتے رہیں گےاور ہم حضرت کی قبر کو معقول طور پر نشان زد بھی کریں گے۔

مرکز المعارف سے وابستہ تمام افراد دعا گو ہیں کہ رب کریم حضرت   کی قبر کو نور سے منور فرمائے ، اور ہم سب کو ان کا  نعم البدل عنایت فرمائے، نیز ان کی آل و اولاد کو صبر جمیل عطا فرمائے- آمین