آہ! مولانا ولی رحمانی نہ رہے

آہ! مولانا ولی رحمانی نہ رہے

جویریہ آفرین حسینی،گلبرگہ

معروف اسلامی اسکالر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری تھے، مولانا سید ولی رحمانی دامت برکاتہ، بہار کے ضلع منگیر سے تعلق رکھتے تھےاور انہوں نے کئی بار ریاستی قانون ساز کونسل کے ممبر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔

بطور ممتاز اسلامی اسکالر اور امارتِ شرعیہ ، پٹنہ کے امیر،  مولانا نے "رحمانی 30 " کے نام سے ایک انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی جو نچلے معاشی طبقے کے طلباء کو IIT JEE ، NEET اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لئے سالوں سے مفت کوچنگ مہیا کرتا ہے۔ ان کی رحمانی تحریک نے مسلم نفسیات پر بہت بڑا اثر چھوڑا۔ مولانا ولی رحمانی بہار اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر بھی رہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے معاشرتی ترقی کے لئے ان کے اقدامات نے انہیں بہار کے منگیر اور باقی ہندوستان میں ایک ممتاز شخصیت بنا دیا ہے۔

انہوں نے بریلوی ، دیوبندی، شیعہ اور سنی کی شناخت کرنے کی بجائے پہلے مسلمان بننے کی اپیل کرتے ہوئے سالمیت اور اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے مدرسہ کے منظم نظام تعلیم کو فروغ دینے کیلئے انتھک محنت کی۔ ایک ماہر تعلیم کے طور پر ، مولانا رحمانی نوجوان علماء کو جوش و جذبے کے ساتھ مسلم معاشرے کی خدمت کے لئے تیار کرتے رہے ۔ مولانا کے دیگر قابل ذکر اقدامات کے ساتھ ساتھ  یکساں سول کوڈ کے خلاف انکی جدوجہد امت  کے تئیں انکے کرب والم کو ظاہر کرتی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قیام اور اداروں کے لئے ضروری سہولیات کے ساتھ جدید عمارتوں کی تعمیر کے لئےانہوں نے انتھک  کوششیں کیں۔مشکل اور چیلنج والے حالات میں معاشرے کے مسائل حل کرنے کی کوشش میں مولانا کو ان کی ہمت اور جوش کے لئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔" اے آئی ایم پی ایل بی" کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے انہوں نے شریعت کے تحفظ کے لئے متعدد مہمات کی رہنمائی کی اور میڈیا کے گمراہ کن پروپیگنڈوں کے ساتھ ساتھ حکومت کو ’ذاتی قوانین‘ اور مداخلت پر حکومت کی مداخلت کی بھی مخالفت کی۔ ہندوستانی مسلم کمیونٹی کو اس عظیم اسکالر کے انتقال سے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ان تمام محاذوں پر انہوں نے اپنی انتھک جدوجہد کے ذریعے نمایاں کامیابی بھی حاصل کی۔ مسلم پرسنل لا بورڈ میں خواتین کو فروغ دینا اور بورڈ میں خواتین کا ونگ قائم کرکے شریعت کے تحفظ کے لئے ان کے مابین ایک تحریک شروع کرنا ، مولانا مرحوم کی طرف سے ایک بڑا قدم ہے۔

امت،  سوگوار خاندان اور ان کے پیروکاروں سے تعزیت کا اظہار کررہی ہے ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی روح کو ابدی سکون عطا کرے اور غمزدہ کنبہ اور پیروکاروں کو صبر جمیل عطا کرے۔ اللہ پاک ہم سب کو انکی تحریک کو آگے بڑھانے اور جو مشن انہوں نے چھوڑا ہے اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مضمون نگارہ  آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ویمنز ونگ کرناٹک کی  کوآرڈینیٹرہیں۔