افغانستان میں سوپر پاؤرس کا کھیل: مسلمان ہوشیار رہیں

افغانستان میں سوپر پاؤرس کا کھیل: مسلمان ہوشیار رہیں

از: محمد برہان الدین قاسمی

دنیا کے نام نہاد سوپر پاؤرامریکہ اور نیٹو، کل 70 ممالک کے ساتھ، اس وقت افغانستان میں 20 سال کی طویل ترین جنگ کے بعد واضح شکست سے دو چار ہونے جارہے ہیں. جس مقصد کے تحت جنگ شروع کی گئی تھی وہ تو حاصل نہیں ہوا البتہ ان کا دشمن (امارت اسلامی افغانستان) مزید طاقتور بن چکا ہے. اب ان ممالک کو بہر حال وہاں سے نکلنا ہے لیکن اس سے پہلے وہ آخری کوشش کر رہے ہیں کہ عالم اسلام کے دو طاقتور ممالک جو ایک دوسرے کے کافی قریب ہیں ان کو جتنا ہو سکے نقصان پہنچایا جائے. عرب ممالک گزشتہ تین چار سالوں میں سیاسی اور معاشی اعتبار سے جتنا کمزور اور بکھراؤ کے شکار ہوئے ہیں اتنا 1965 کے بعد کبھی نہیں ہوئے تھے. “یا رسول اللہ“ اور فرانس کے نام پر جو کچھ اس وقت بر صغیر میں ہورہا ہے ان کا تعلق بھی افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کے انخلاء سے ہوسکتا ہے.

اسلام مخالف طاقتیں چند مولوی نما بہروپیوں اور داعش جیسے بدنام زمانہ گروپوں کو اسلام اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی محبت کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ وہ پہلے بھی سیریا، عراق اور لیبیا میں کامیابی کے ساتھ کر چکے ہیں. اب وہ افغانستان سے انخلاء سے قبل افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک —پاکستان اور ایران بشمول ترکی کو ڈیسٹبلائز کرنا چاہتے ہیں، تاکہ خطے میں خانہ جنگی بدستور جاری رہے اور مسلمان ایک متحدہ طاقت کے طور پر کبھی بھی ابھرنے نہ پائے. افسوس ہے کہ کچھ سفید پوش سیاسی اور مذہبی افراد اور ان کی جماعتیں، خواہی نہ خواہی، آپس میں طاقت کے دوڑ کے نشہ میں ان کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں. اس خطہ کے مسلمان عوام اگر سمجھداری سے کام نہ لیتے ہوئے ان سفید پوش اور مذہبی دکھنے والے بھیڑوں کی اندھی تقلید کرتے رہے تو ممکن ہے بر صغیر کا وہی حال ہوگا جو Lawrence of Arabia (لورینس آف عربیہ) نے عربوں کو استعمال کر کے خلافت عثمانیہ کا کیا تھا.
ٹی، ای لورینس نامی شخص ایک انگریز آرمی آفیسر تھا جس نے مسلمانوں کے بھیس میں ایک عرب عالم دین اور واعظ بن کر عربوں کو اسلام اور عرب توقیر کے نام پر پہلی جنگ عظیم میں خوب اکسایا، خلافت عثمانیہ کے خلاف جنگ میں ان کو برطانیہ کے فائدے کے لئے بھر پور استعمال کیا اور ایک طاقتور خلافت کے زوال کے دوسرے اسباب کے ساتھ ایک سبب بنا. اس اہم واقعہ کو مغربی دنیا عالم اسلام سے پوشیدہ رکھنے میں کچھ حد تک کامیاب رہی ہے.

یہ بات عالمی سیاست سے واقفیت رکھنے والے لوگوں کے لئے واضح ہے کہ اس وقت ہمارا خطہ یعنی پورا جنوبی ایشیا اور خاص کر افغانستان تمام عالمی سیاست کا میدان بنا ہوا ہے. روس وہی کھیل امریکہ کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کررہا جو تیس سال پہلے امریکہ نے اس کے ساتھ کھیلا تھا. مزید یہ کہ اس وقت چین بھی ایک اہم کھلاڑی کے طور پر میدان میں موجود ہے اور دونوں (روس اور چین) امریکہ اور نیٹو کے دوست نہیں ہے. دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان جو پہلے روس کا قریبی دوست تھا اب واضح طور پر امریکی بلاک میں ہے اور اس کا دشمن پاکستان جو پہلے کھل کر امریکی بلاک میں تھا اب خاص کر افغان معاملہ میں اپنے آپ کو درمیان میں اور ایک ثالث کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، اگرچہ اس کا صاف جھکاؤ چین کی وجہ سے روس کی طرف دکھرہا ہے لیکن امریکہ اور نیٹو کے لئے پاکستان کے علاوہ افغانستان سے نکلنے کا اور کوئی بہتر راستہ موجود نہیں ہے. اب پاکستان اگرچہ امریکہ کے لئے وہ سب کچھ نہیں کر رہا ہے جو وہ پہلے کرتا تھا، اس کی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی نظر آرہی ہے، دوسری طرف افغانستان معاملہ میں ہندوستان جغرافیائی اعتبار سے بہتر پوزیشن میں نہیں ہے. ہم (ہندوستان) نے افغانستان میں امریکہ کے کہنے پر اربوں روپے خرچ کئے ہیں لیکن ہمیں اب کچھ فائدہ ہوگا اس کی کوئی توقع نہیں ہے. ہمیں چاہیے کہ ہم اس معاملہ میں مزید غلطیاں نہ کریں اور کم از کم اب ان معاملات سے خود کو الگ کرلیں۔ افغانستان اس وقت نیا سوپر پاؤر بننے کا اکھاڑا بن چکا ہے جو پہلے بھی کئی سوپر پاؤرس کا قبرستان ثابت ہواہے. اس لئے افغانستان میں آگے آنے والی طاقت کو کھلا ہوا دشمن بنانا ہمارے لئے عقلمندی نہیں ہوگی. ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن پڑوسی کو بدلنا مشکل عمل ہے. ہمارا ملک بڑا اور ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے لیکن چین اور پاکستان بھی ہمارے کمزور پڑوسی نہیں ہے. روس، ترکی اور ایران بھی اسی خطہ کے ممالک اور امریکہ کے مقابل ہمارے قریب کی طاقتیں ہیں اور ان سب کو بیک وقت دشمن بنانا ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا قتل ہوگا جو بیوقوفی سے پر عمل ہوگا.

دوسری طرف “یا رسول اللہ“ والوں کو چاہیے کہ وہ ہوش کا ناخن لیں اور دشمنان اسلام کا آلہ کار بننے سے گریز کریں. کسی ملک سے کسی ایسے ملک کا جو یورپین یونین میں طاقتور ترین ملک اور نیٹو کا بنیادی ممبر ہونے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی کونسل کا مستقل رکن بھی ہو، کے سفیر کو ملک بدر کرنا اس ملک سے جنگ کے اعلان کے مترادف ہے. یاد رہے اس وقت بر صغیر کے مسلمان کسی مزید جنگ کے متحمل نہیں ہے نیز کسی کی دشمنی میں اپنے خود کے گھر کو آگ کے حوالے کرنا کسی طرح سے معقول نہیں ہے. کچھ سفید پوش سیاسی اور نیم مذہبی جماعتیں بھی اپنے فائدے اور اپنے مخالفین کی دشمنی میں موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں، ایسا موقع پرست ٹولہ تاریخ کے ہر دور میں موجود رہا ہے اور اب بھی ہے. ممکن ہے عوام کو بعد میں سمجھ میں آئے کہ یہ “حب رسول” (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لبادہ میں مغرب کی طرف سے ماضی کی طرح ایک اور جال بچھایا گیا تھا لیکن تب تک کہیں بہت دیر نہ ہوجائے.
——————————-

مضمون نگار: ممبئی سے شائع ہونے والا انگریزی مجلہ ایسٹرن کریسنٹ کے ایڈیٹر ہیں.