یونیفارم سول کود کچھ دیر ٹہر اور ذرا یکھ تماشا

یونیفارم سول کود

     کچھ دیر ٹہر اور ذرا یکھ تماشا

                   
     از ـ محمود احمد خاں دریابادی 
     پھر یونیفارم سول کورٹ کا پٹارا کھل گیا، ....... پھر اس میں مسلمانوں کو بلاوجہ گھسیٹا گیا .......... حالانکہ موجودہ معاملے سے مسلمانوں کا لینا ایک ہے نہ دینا دو، ........ معاملہ یہ ہے کہ دو ہندو ( سرکار کی نظروں میں) مرد عورت آپسی تنازعہ کو لے عدالت پہونچے، عدالت میں شوہر نے کہا کہ میری شادی اس عورت سے ہندو میرج ایکٹ کے مطابق ہوئی ہے، عورت نے جواب دیا کہ میں مینا برادری سے تعلق رکھتی ہوں اس لئے مجھ پر ہندو میرج ایکٹ نافذ ہی نہیں ہوتا ........... حالانکہ سرکار کی نظروں میں دونوں ہندو ہیں ـ ............ اب عدالت تبصرہ فرماتی ہے کہ ملک میں سب کے لئے ایک سول قانون ہونا چاہیئے، مسلمانوں کا ذکر کئے بغیر چونکہ کھانا ہضم نہیں ہوتا اس لئے شاہ بانو کیس کا حوالہ بھی دیدیا گیا ـ 
      بس پھر کیا تھا بیٹھے بٹھائے گودی میڈیا کو ایک دلچسپ موضوع ( مدّا) مل گیا، شروع ہوگئی ٹی وی چک چک، چیخنے لگے اینکر، چلانے لگے سنگھی، ایک آدھ مسلمان کو بھی بیٹھا لیا گیا، جس کی کوئی سنتا نہیں، اینکر بھی ڈپٹتا ہے، سنگھی بھی ڈانتا ہے، اور ڈاڑھی ٹوپی والا بے چارہ گالیاں کھاکے بھی بے مزہ نہیں ہوتا، دوسرے دن شوشل میڈیا میں بڑے فخر کے ساتھ اپنی کلپ شئر بھی کردیتا ہے ـ
      سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم ہر چیز کو سمجھے بغیر فوری طور پر رد عمل ظاہر کرکے ساری لڑائی اپنے سر کیوں لے لیتے ہیں ـ .............. بلکہ ہمیں اُلٹا سوال کرنا چاہئیے کہ ہندوستان میں رہنے والے تمام مذاہب کے باشندوں کو کامن سول کوڈ کی چھتری تلے لانے سے پہلے اپنے ہندوؤں کو تو ایک سول کوڈ پر متحد کردیجئے، ........... ہندوستان کے مشرق، مغرب، شمال اور جنوب میں بسنے والے تمام ہندو (سرکار کی نظروں میں ) جن میں بہت سے اپنے کو ہندو ماننے سے انکار کرتے ہیں پہلے ان کے لئے یونیفارم سول کوڈ بنائیے اور اس کو نافذ کرکے دکھائیے، .......... یقین جانیے دانتوں پسینے آجائیں گے ـ 
 
   اس لئے میری درخواست ہے کہ کسی چک چک میں شامل ہوئے بغیر ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ سجائیے اور دور بیٹھ کر تماشا دیکھئے ـ
 
    محمود احمد خاں دریابادی 
         10 جولائی 2021
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ "ایسٹر کریسینٹ" کاان سےاتفاق ضروری نہیں)