ایک تبلیغی چِلّے کا یادگارعشرہ ذی الحجہ

ایک تبلیغی چِلّے کا یادگارعشرہ ذی الحجہ

 

از: اظہارالحق قاسمی بستوی
 
 
   آج سے دس سال قبل جب ہم مرکزالمعارف ممبئی میں پڑھتے تھے تو وہاں کے روٹینی نظام کی وجہ سےاُس وقت  ہم طلبہ کو 20/ذی قعدہ سے لے کر 30 /ذی الحجہ  تک چلہ لگانا پڑتا تھا۔ اس چلے کی حیثیت یہ تھی کہ اگر کوئی طالب علم چلہ نہ لگانا چاہے تو مستحق اخراج سمجھا جاتاتھا۔ اس لیے ہم ساتھی اُس چلے کو چلہ اضطراریہ کہتے ہیں۔ 
ساتھی اس موقع سے انتظامیہ کی طرف سے چلہ لگوانے سے  سخت نالاں رہتے تھے اور اسے انتظامیہ کی طرف سے زیادتی؛ بل کہ ظلم سمجھتے تھے۔  کیوں کہ اس چلے کے درمیان بقرعید بھی پڑتی اور ہم لوگوں کو پردیس میں بقرعید منانا بہت شاق گزرتا۔ انتظامیہ پورے تعلیمی سال یعنی شوال تا شعبان میں ایک بار بھی طلبہ کو گھر جانے کی رخصت نہیں دیتی تھی مگر چالیس روز جماعت میں جانے کا ضرور پابند کرتی۔ ہم طلبہ جماعت میں جانے کو غلط نہیں سمجھتے تھے مگر بقرعید کے موقعے سے جماعت میں جانا  اور گھر نہ جاپانا ہم کو بہت گراں گزرتا ۔ 
 
چلہ لگوانا مفید تھا یامضر؟
مرکزالمعارف اپنے دعوت کے مشن کو لے کر اپنے طلبہ کو اس تبلیغی کام  اور اس کے طریق کار سے بھی آشنا کرانا چاہتا تھا اس لیے اس حوالے سے وہاں پر کوئی لچک اور رعایت نہیں تھی اور وہاں پڑھنے والے ہر طالب علم کو جماعت میں جانا ہی پڑتاتھا۔ مرکز کی طرف سے یہ چلہ لگوانا مفید؛  بل کہ مفید تر تھا جس سے جماعت میں اب تک نہ نکلے ساتھی اس کام کو سیکھتے اور عوامی پلیٹ فارم پر دعوت کاکام کیسے کیا جاتا ہے سے آشنائی حاصل کرتے۔ اس کے علاوہ بہت کچھ روحانیت اور نورانیت حاصل کرتے۔  شنید ہے کہ جماعت کےدولخت ہوجانے  کے سبب مرکز المعارف سے طلبہ کو جماعت میں بھیجنے کا سلسلہ موقوف ہے اور بقرعید کے موقعے سے طلبہ کو رخصت بھی مل رہی ہے۔ موقوف ہونا تو بہت مناسب نہیں البتہ بقرعید میں طلبہ کو گھر جانے کی اجازت کو سن کر دل شاد ہوا۔
 
ہمارا رخ
ملت مرکز جوگیشوری سے ہمیں پہلے سال جو رخ ملا وہ مہاراشٹر کے تبلیغی اعتبار سے  مشہور ترین ضلع امراوتی کا ملا جو مسز پرتبھا پاٹل سابق صدر جمہوریہ ہند کا وطن ہے۔ سوء اتفاق سے یہ راقم ہی اپنی جماعت کا امیر طے کردیا گیا۔ ایک ہفتے کے قریب ہم لوگ امراوتی شہر میں رہے۔ امراوتی شہر کے لوگوں نے علماء کی جماعت کا سن کر بڑا خیال رکھا اور ہم لوگوں کو کام کا بھی اچھا موقع فراہم کیا۔ ایک ہفتے کے بعد مقامی جماعت کے مشورے سے ہم لوگوں کا رخ بروڈ نامی علاقے کی طرف طے ہوگیا جہاں کے ذمے دار فہیم بھائی (حافظ فہیم صاحب) ہیں۔ فہیم بھائی جہد پیہم اور فکر مسلسل سے عبارت ہیں۔ انھوں نے اکرام اور خدمت کی حد کردی۔ کہنے کو تو وہ ایک عام آدمی ہیں جنھوں نے اپنی محنت سے جماعت میں حفظ کیا ہے مگر وہ اس علاقے میں مرجعیت رکھتے ہیں اور علم و عمل میں بھی کافی پختہ ہیں۔ نماز عید الاضحیٰ ہم نے انھیں کی امامت میں ادا کی۔ شرافت و نجابت اور اطاعت شریعت ان کے ہر قول و فعل سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس موقعے سے وہاں کے لوگوں نے ہم ساتھیوں کو سنترے بھی خوب کھلائے؛ کیوں کہ یہ موسم سنتروں کا تھا اور وہاں سنتروں کی کھیتی ہوتی ہے۔
 
ذی الحجہ کے نو روزوں کے سلسلے میں مشورہ
ممبئی مرکز سے ہم تیرہ ساتھی اس جماعت میں نکلے۔ رفقاء درس ہونے کے باوجود ساتھیوں نے اس ناچیز کو امیر کی حیثیت دی اور پورے سفر کو شاد و آباد رکھا۔ ہمارے ساتھیوں میں ایک سے بڑھ کر ایک مقرر، خطیب اور مفتی تھے اور کچھ قدیم جماعتی ساتھی بھی تھے مگر سب سے امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ سب ساتھی فکری اعتبار سے بالیدہ شعور اور مزاج آشنا تھے۔ 
ذی قعدہ کے آخری دن مشورہ ہوا تو اس ناچیز نے عشرہ ذی الحجہ کے فضائل کے پیش نظر ایک تجویز رکھی کہ اس وقت ہم لوگوں کے پاس موقع ہے؛ لہذا کیوں نہ دسویں ذی الحجہ سے قبل کے نو روز روزے رکھ لیے جائیں۔ بلا استثناء تمام ساتھیوں نے اتفاق کیا؛ بل کہ ولولہ انگیزی اور تحمس کا مظاہرہ کیا۔ ساتھیوں نے یہ بھی سوچا کہ ابھی موقع ہے روزے رکھ لیں اور عبادت کرلیں۔ پتہ نہیں آئندہ کب توفیق حاصل ہو۔ 
 
عشرہ ذی الحجہ کس طرح گزرا
 چناں چہ اس کے بعد تمام ساتھیو نے عشرہ ذی الحجہ کے نو روزے رکھے اور ذی الحجہ کی راتوں کو عبادت کی راتوں میں تبدیل کردیا۔ شاید ہی کوئی رات ایسی گزری ہو جس میں تمام ساتھیوں نے تہجد نہ پڑھی ہو۔ ساتھیوں کے ذوق و شوق سے پورا عشرہ ذی الحجہ رمضان کے آخری عشرے کی کیفیت میں تبدیل ہوگیا۔ علاقے کے لوگوں نے بھی ہمارے پورے عشرے کے اس اہتمام کو ملاحظہ کیا اور بہت متاثر ہوئے۔ ہم لوگ حتی الامکان اس امر کو مخفی رکھنے کی کوشش کرتے مگر قریبی لوگ بہرحال جان جاتے تھے۔ خود روزے رکھنے کی وجہ سے لوگوں کو ترغیب دینے میں بھی سہولت ہوئی۔ اُن ایام کے روزوں کے برکات ہم نے کھلی آنکھوں دیکھے اور محسوس کیے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اُن روزوں کو قبول فرمائے۔
تب سے آج تک تقریباً دس سال گزر چکے ہیں مگر ہمیں دوبارہ یہ سارے روزے رکھنے اور اس عشرہ میں جم کر عبادت کرنے کی نہ ہمت ہوئی اور نہ توفیق ملی۔
ہم لوگ جب چلہ پورا کرکے ممبئی واپس لوٹ رہے تھے تو امراوتی اسٹیشن پر لوگوں کا ایک جم غفیر ہمیں رخصت کرنے آیا تھا اور اب تک بھی وہاں کے کچھ لوگوں سے مراسم استوار ہیں۔ فہیم بھائی کبھی کبھی یاد کر لیتے ہیں اور تمجید بھائی (وہاں کے ایک مخلص تبلیغی دوست) ابھی بھی مہینہ دو مہینہ میں خیریت دریافت کر لیتے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آنے والے عشرہ ذی الحجہ کی کماحقہ قدردانی کی توفیق بخشے اور ہم سب کی قربانیوں کو قبول فرمائے۔
(تحریر: 11/ جولائی 2021)
 
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ "ایسٹر کریسینٹ" کاان سےاتفاق ضروری نہیں