اس سال بھی چرم قربانی کے ساتھ مبلغ دوسو روپئے مدرسوں میں دئے جائیں ـ موجودہ حالات میں آل انڈیا علماء کونسل کی اہل خیر سے اپیل

اس سال بھی چرم قربانی کے ساتھ مبلغ دوسو روپئے مدرسوں میں دئے جائیں ـ موجودہ حالات میں آل انڈیا علماء کونسل کی اہل خیر سے اپیل

                        
      ممبئی ۱۵/ جولائی (پریس ریلیز):  عیدالاضحی کے موقع پر چرم قربانی کی قیمتیں انتہائی کم ہیں اس سے اسلامی مدارس میں بحرانی حالات ہیں، پچھلے دو رمضان میں چندہ بھی نہیں ہوسکا، بہت سے مدرسوں میں کئی ماہ سے علماء کی تنخواہیں نہیں دی جاسکی ہیں، جس وجہ سے بعض علماء کے گھریلو حالات انتہائی سنگین ہوگئے ہیں، اس موقع پر آل انڈیا علماء کونسل کے سکریٹری جنرل مولانا محمود احمد خاں نے ملت کے اہل خیر کی خدمت میں جاری اپنے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ 
     "  یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان میں چلنے والے بیشتر مدارس کے اخراجات اہل خیر کی جانب سے ملنے والے عطیات، زکوۃ، صدقات اور چرم قربانی کے ذریعے پورے ہوتے ہیں ـ ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ ہندوستان میں دین کی ترویج واشاعت اور اسلامی تہذیب و تمدن کے بقا کے لئے مدارس کا وجود کتنا ضروری ہے ـ 
    پچھلے تقریبا دوسال سے کرونا نے ملک میں لاک ڈاون کی کیفیت پیدا کررکھی تھی جس کی وجہ رمضان میں زکوۃ و صدقات کے حصول کے لئے آنے والے مدرسوں سے نمائندے وسفراء اہل خیر کے پاس نہیں پہونچ پائے ـ اسی طرح پچھلے کئی برسوں سے بازار میں چرم قربانی کی قیمت بھی انتہائی کم مل رہی ہے، بعض جگہ تو مفت میں بھی کوئی لینے کے لئے تیار نہیں ہوا اس لئے ارباب مدارس کو حاصل شدہ کھالوں کی تدفین کرنی پڑی، اس طرح کھالوں کے حصول اور تدفین کے اخراجات کا بار بھی مدرسوں کو اُٹھانا پڑا ـ اب پھر عیدالاضحی قریب ہے اور اس سال بھی کم وبیش پہلے جیسی صورت حال نظر آرہی ہے ـ
    مولانا دریابادی نے مزید کہا کہ چونکہ پچھلے برس بھی کچھ ایسی ہی صورت حال تھی جس کے پیش نظر ہم نے اور ملت کے دیگر سرکردہ افراد نے اہل خیر سے اپیل کی تھی کہ اپنی چرم قربانی کے ہمراہ فی چرم مبلغ دوسو روپئے بھی مدرسوں میں جمع کرائے جائیں،.........  اس سال بھی ہم تمام اہل خیر سے التماس کرتے ہیں کہ اپنی قربانی کی کھالوں کے ساتھ کم ازکم مبلغ دوسو روپئے مدراس کو عطافرمائیں ـ 
      مولانا نے کہا کہ موجودہ وقت میں اوسط درجے کا ایک جانور پندرہ سے بیس ہزار میں دستیاب ہوتا ہے، آمد رفت، خوراک اور ذبیحے کے اخراجات بھی کم ازکم ایک جانور پر ڈیڑھ ہزار تک آتے ہیں، ایسے بھی ایک جانور پر مزید دوسو روپیہ خرچ کرنا کوئی مشکل نہیں ہے ـ آپ کے اس بظاہر چھوٹے عطئے سے مدارس کی بہت بڑی مدد موسکتی ہے اور آپ صدقہ جاریہ کے حقدار بھی بن سکتے ہیں۔