انسانی آبادی کو کنٹرول کرنے کے بجائے قدرتی وسائل کی صحیح تقسیم ضروری ہے

انسانی آبادی کو  کنٹرول کرنے کے بجائے قدرتی وسائل کی صحیح تقسیم ضروری ہے

(آخری قسط)

ازمحمد فیاض عالم قاسمیؔ

ہمارا عقیدہ ہے کہ پوری کائنات کا خالق و مالک اور اسے چلانے والا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو اپنی حکمت اور مصلحت کے ساتھ اس پورے نظام کو کنٹرول کر رہا ہے۔ سارے انسان اسی نے پیدا کیے ہیں اور زمین میں ان کے لیے خوراک بھی اسی نے مہیا کی ہے۔ اسے انسانوں کی ضروریات اور زمین میں خوراک کے خزانوں کاپورا علم ہے۔ وہ انسانوں کی ضروریات سے غافل نہیں ہے اور نہ آبادی اور خوراک کے ذخائر میں توازن قائم رکھنا اس کے بس سے باہر ہے۔ اس نے ہر جاندار کی خوراک کا وعدہ کر رکھا ہے اور اس وعدہ کے مطابق وہ صرف انسانی آبادی نہیں، بلکہ ہر جاندار مخلوق کو اس کی ضرورت کے مطابق خوراک اور دیگر ضروریات مہیا کر رہا ہے۔قرآن کریم کی سورہ ہود آیت نمبر(۶۰)میں اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:ترجمہ:”زمین میں چلنے والا کوئی ایساجاندار نہیں ہے، جس کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے نہ لے رکھا ہو۔ وہ ہر جاندار کے عارضی اور مستقل ٹھکانے کو جانتا ہے اور یہ سب کچھ ریکارڈ میں موجود ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے اندر تقسیم ِرزق کا جو نظام بنارکھا ہے۔ اس میں اس نے ہر جاندار کے لیے اس کی ضروریاتِ زندگی فراہم کر دی ہیں۔اس آیت کے تحت حضرت مولاناخالد سیف اللہ  رحمانی دامت برکاتہم اپنی مایہ ناز آسان تفسیر قرآن میں لکھتے ہیں:

اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات کے لئے رزق کا انتظام فرماتے ہیں۔ تھوماس رابرمالتھوس (Thomas Robert Malthus) نے 1798ءمیں اپنا نظریہ پیش کیا تھا کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے اعتبارسے ۳۰ سال کے  عرصہ کے بعد دنیا میں کھانے پینے کے وسائل ختم ہوجائیں گے اور لوگوں کے بھوکوں مرنے کی نوبت آجائے گی اور اس کے ۱۰۰ سال بعد 1898ء میں سرولیم کروکس (Sir william Crookes) نے توچیلنج کیا تھا کہ صرف ۳۰ سال تک ہی موجودہ وسائل ہماری ضروریات  پوری کرسکیں گے ؛ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ آج آبادی کے کئی گنا زیادہ ہوجانے کے باوجود زرعی پیداوار سے لے کر ، مرغی ، انڈے اور مچھلیاں وغیرہ تک تمام ضروریاتِ زندگی اتنی وافر مقدار میں موجود ہیں کہ ماضی میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور صنعتی پیداوار نے انسان کو جو سہولتیں مہیا کی ہیں ، ان کا تو کوئی شمار وحساب ہی نہیں ، یہ سب کچھ قرآن مجید کے اُس بیان کی عملی تصدیق ہے کہ جیسے جیسے اللہ کی مخلوق میں اضافہ ہو گا ، وسائل میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔(آسان تفسیر قرآن، تحت سورہ ہود، آیت:۶ )

اس لیےمسئلہ انسانی آبادی میں اضافے  کانہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ دوہیں:

(1) زمین میں موجود خوراک کے ذخائر تک رسائی کس طرح ہو؟

(2) ان کی تقسیم کا کیا نظام ہو؟۔

یہ دو باتیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذمے کی ہیں اور انہیں انسان کی عقل اور دیانت کی آزمائش ٹھہرایا ہےاوربدقسمتی سے یہیں گڑبڑ ہواہے،اس لئے ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ان کاجائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی فلاحی مملکت میں ہر کنبے کو اس کی ضرورت کے مطابق وظیفہ دیا جاتا ہو اور پندرہ بیس افراد میں سے کسی ایک کو ان کا سربراہ بنایاجاتاہو، اوران  کو اتھارٹی دی جائے کہ وہ اپنے کنبے کے افراد کی ضروریات کے لیے اتنی رقم سرکاری خزانے سے لے سکتا ہے،پس وہ رقم وصول کرنے میں یا تو لاپرواہی کرتا ہو یا وہاں سے وصول توکر لیتا ہو،لیکن متعلقہ لوگوں پر خرچ کرنے کے بجائے ذاتی عیش و عشرت پر ضائع کر دیتا ہو تو اس کنبے کے افراد کو خوراک و لباس اور دیگر ضروریات نہ ملنے کی ذمہ داری اس فلاحی ریاست پر نہیں ہوگی؛ بلکہ کنبے کا سربراہ مجرم ہوگا، کیوں کہ اس نے رقم وصول نہ کر کے یا وصولی کی صورت میں بے جا استعمال کر کے اپنے کنبے کے افراد کو بھوک، ناداری اور غربت سے دوچار کر دیا ہے۔

اسی طرح آج اگر دنیا میں کروڑوں انسان بھوک اور فاقہ کا شکار ہیں اور بہت سے ممالک اپنے عوام کو بنیادی ضروریات مہیا کرنے سے قاصر ہیں تو اس کا قصور وار وہ نظام اور سسٹم ہے جس نے انسانی برادری کی عالمی سطح پر چودھراہٹ سنبھال رکھی ہے اور جس نے خوراک کے ذخائر اور دنیا کے مالی وسائل پر اجارہ داری قائم کررکھی ہے، اوران کی تقسیم کے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں۔

یہ اسی کا کرشمہ ہے کہ ایک طرف امریکہ گیہوں کا ایک بہت بڑا حصہ ضرورت سے زائدقرار دے کر سمندر میں پھینک دیتا ہے اور برطانیہ میں مارکیٹ کی قیمتوں میں توازن رکھنے کے لیے کچھ زمینداروں کو گندم کی کاشت کرنے سے روک دیاجاتاہےتو دوسری طرف غریب ممالک میں لاکھوں انسان بھوک سے مر جاتے ہیں۔ایک طرف امیروں کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف غریبوں کی غربت اس سے دوگنی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

 خود ہمارے ملک میں ایک طرف چند افراد اور خاندان ہیں جن کے کتے مکھن اور پنیر کھاتے ہیں اور دوسری طرف کروڑوں غریب عوام ہیں جن کو دو وقت سادہ روٹی بھی میسر نہیں ہوتی۔ غربت کا مسئلہ قومی سطح پر ہو یا عالمی سطح پر، دونوں جگہ خرابی کی اصل وجہ تقسیم کا نظام ہے اور وہ خود غرض طبقات و اقوام اس کے ذمہ دار ہیں جو اپنی عیاشی اور لگژری کے لیے غریب عوام و طبقات کا استحصال کر رہی ہیں اور کروڑوں بھوکے اور فاقہ کش انسانوں کے منہ سے نوالے چھین کر اپنی تجوریاں بھر رہی ہیں۔ 

اسلام کا نظام یہ ہے کہ  دولت صرف مالداروں کے درمیان میں گھومتی پھرتی نہ رہے؛ بلکہ ضرورت مندوں تک  بھی پہنچے۔ (سورۃ الحشر: ۷)

اسی وجہ سے شریعت میں زکاۃ اورعشر کو واجب قراردیاگیا ہے،بعض گناہوں کی سزاکفارات متعین کئے گئےہیں،صدقات وخیرات کی  ترغیب دی گئی ہے،ان کااولین مصرف غریب اورمحتاج کو بنایاگیاہے۔ صدقات وخیرات اورزکاۃ کے مستحق غریب فقیراورمسکین ہیں۔۔(سورۃ التوبۃ:۶۰)اس لئے قدرتی ذخائرکی موجودہ کوتقسیم بدلناہوگا،زمین کے وسائل پر تمام انسانوں کا یکساں حق تسلیم کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ انسانی آبادی کوکنڑول  کرنے کی۔فقط

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مضمون نگار دارالقضاء ناگپاڑہ کے قاضی شریعت ہیں۔

 

 

 

مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ "ایسٹر کریسینٹ" کاان سےاتفاق ضروری نہیں