کسی بھی مذہب کی مقدس شخصیات کی شان میں گستاخی بھی دہشت گردی ہے

کسی بھی مذہب کی مقدس شخصیات کی شان میں گستاخی بھی دہشت گردی ہے ـ ملی شخصیات نے ایسے دہشت گردوں کے خلاف سخت قانون بنانے کا مطالبہ کیاـ ایڈیشنل پولیس کمشنر اور ڈی سی پی سے ملاقات ـ ایف آئی ار درج ہوگی ـ

    ممبئی،  ۱۳/ اگست، (ایسٹرن کریسینٹ) مقدس شخصیات خاص طور پر رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف تسلسل کے ساتھ زباں درازی اور گستاخی کا سلسلہ جاری ہے، چند دن قبل بھاجپا کے ایک لیڈر اپادھیائے کی دعوت پر بڑی تعداد میں جنتر منتر دہلی میں شرپسند جمع ہوئے اور اسلام، مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز نعرے لگائے، یہاں تک کہ اللہ تعالی کے خلاف بھی انتہائی دل آزار نعرہ لگایا گیا ـ جنتر منتر انتہائی حساس اور وی آئی پی علاقہ ہے وہاں کے چپے چپے پر پولیس اورسیکورٹی فورس موجود رہتی ہے اس کے باوجود ان غیر قانونی طور پر جمع ہونے والوں اور کرونا گائڈ لائن کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف اس وقت کوئی کارروائی نہیں ہوئی تعجب کی بات ہے ـ

     جنتر منتر کی بھیڑ میں شامل ایک شرپسند پنکی چودھری نے نیشنل چینل اے بی پی نیوز پر انٹر ویو دیتے ہوئے جنتر منتر پر ہونے والی شرپشندی کی ذمہ داری قبول کی اور ایک بار پھر اس نیشنل چینل پر تمام مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی غلیظ باتیں کی، یہاں تک کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں شدید گستاخی بلکہ گالی گلوج والی زبان بھی استعمال کی ہے، اس اشتعال انگیز حرکت سے ساری دنیا کے تمام انصاف پسند خاص طور پر مسلمانوں کے جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں ـ

   اس شرپسندی کے خلاف جمعہ ۱۳ اگست ۲۰۲۱ شام چار بجے ممبئی امن کمیٹی کرافورڈ مارکیٹ مسافر خانہ میں شہر کی سرکردہ شخصیات جمع ہوئیں اور جنتر منتر میں ہونے والے واقعہ، نیشنل چینل پر پنکی چودھری کی اشتعال انگیزی اور شان رسالت میں گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تمام شرپسندوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے ـ

  ملت کی سرکردہ شخصیات نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مقدس شخصیات کی شان میں بدزبانی اور گستاخی کا سلسلہ نیا نہیں ہے، چونکہ ایسے شرپسندوں کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں ہوتی اس لئے ان کے حوصلے بلند ہوتے جارہے ہیں ـ حکومت کو معلوم ہونا چاہیئے کہ یہ بھی ایک طرح کی دہشت گردی ہے، ایسا کرنے والے دہشت گرد ہیں، اس لئے حکومت کو ایسے دہشت گرد جو کسی بھی مذہب کی مقدس شخصیات کے خلاف بدزبانی اور گستاخی کرتے ہیں ان کے لئے ایک سخت ترین قانون بنانا چاہیئے جس میں ایسے دہشت گروں کے لئے عمر قید یا پھانسی کی سزا کا انتظام ہو ـ

     ملی تنظیموں کے سربراہان نے ایڈیشنل پولیس کمشنر سنیل کولے سے اور ان کی ہدایت پر ڈی سی پی زون ون ششی مینا سے بھی ملاقات کی اور اپنے مطالبات کو پیش کیا، ان دونوں کے ہدایت کے مطابق ایف آئی آر درج ہوگی ـ

    ملی شخصیات نے اعلان کیا کہ جلد ہی مرکزی اور ریاستی وزیر داخلہ سے ملاقات کرکے اس سلسلے میں سخت ترین قانون بنانے کا مطالبہ کیا جائے گا ـ

  شریک ہونے والوں میں مولانا محمود خاں دریابادی، مولانا سید اطہر علی، فرید شیخ، مولانا انیس اشرفی، سلیم موٹر والا، مفتی اشفاق قاضی، عبدالحسیب بھاٹکر اور شاکر شیخ، نعیم شیخ  دیگر افراد شریک تھے ـ