دیوبند انتہا پسندی کا نہیں اعتدال پسندی کا مرکز ہے

دیوبند انتہا پسندی کا نہیں اعتدال پسندی کا مرکز ہے

وارث مظہری

دیوبندیت کسی فرقے کا یامسلک کا نام نہیں ہے۔ بانیان دار العلوم دیوبند کے ذہن میں یہ کبھی نہیں رہا ہوگا کہ وہ کسی نئے مسلک کی داغ بیل ڈال رہے ہیں۔لیکن بعد میں برصغیر ہند کے علمی و دینی حلقوں میں پیدا ہونے والی  مسلکی و گروہی چپقلش کو بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں پھلنے پھولنےکا موقع مل گیا۔اس طرح دیوبند کی علمی واصلاحی تحریک نے جوشاہ ولی اللہ کی ہی فکری تحریک کا توسیعہ تھی ،بد قسمتی سے، ایک ذیلی مسلک کی شکل اختیار کرلی ۔حقیقت یہ ہے کہ فکر دیوبند میں شروع دن سے اعتدال کا رنگ غالب رہا ہے ۔ہاں البتہ یہ حقیقت  ہے کہ اسلامی فکر کے حوالے سے شاہ ولی اللہ کے یہاں جو توسع پایا جاتا ہے،تحریک دیوبند کی بعد کی نسلوں میں وہ توسع باقی نہیں رہا اور اس کی جگہ ایک گونہ تقلیدی جمود نے لے لی ۔تاہم اس کے باوجود اس کی دینی و اجتماعی فکر میں پختگی و صلابت اور جامعیت کے ساتھ اعتدال پایا جاتا ہے۔ برصغیر کے بعض دوسرے علمی حلقے:جماعت اسلامی اور اس کے مشہور ادارے ،جامعۃالفلاح اور مدرسۃ الاصلاح نیزندوۃ العلماء بعض فکری اختلافات کے باوجود بنیادی طور پر دیوبندی مکتب فکر کے خانے میں ہی فٹ ہوتے ہیں۔ وہ اسی مشترکہ فکر کے وارث ہیں جسکی موجودہ دور میں دیوبند سے نمائندگی ہوتی ہے۔

دیوبند کو ابتدا سے جماعت اسلامی کی انقلابی سیاسی فکر سے شدید طور پر اختلاف رہا۔علما ئےدیوبند نے بانی جماعت اسلامی کی دین کی سیاسی تعبیر کی آخری حدتک مخالفت کی اور اس نظریے کا زور توڑنے کی جد وجہد کو دین کا اہم تقاضا تصور کیا۔

دیوبند کے اکابر علما قومی و اجتماعی تحریکات میں نہ صرف شریک بلکہ پیش پیش رہے۔تحریک آزادی میں کانگریس کو بھر پور حمایت کرنے والے علماے دیوبند تھے۔اسی طرح تحریک خلافت اور تحریک عدم موالات وغیرہ میں علمائے دیوبند اور ان سے انتساب رکھنے والے حلقے ہر سطح پر بھرپور دینی خود اعتمادی اور فکری استقامت کے ساتھ شریک ہوتے اور ان سے متعلق اپنا تعاون پیش کرتے رہے۔دو قومی نظریے کی تردید اور متحدہ قومی نظریے کی تبلیغ ہی دیوبندکا سیاسی مسلک تھا جس پر پاکستان کے دینی وسیاسی حلقے آج بھی دیوبند کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔اس تعلق سے وہ کسی موڑ پر بھی فکری تذبذب کا شکار نہیں ہوئے جب کہ ان کا مخالف فکری حلقہ مشرکین کے ساتھ عدم تعلق و تعاون سے متعلق اپنے نظریے کی بنا پر کانگریس کے ساتھ تعاون کو حرام تصور کرتا تھا اور اہل کتاب ہونے کی بنا پر انگریزی حکومت سے ایک گونہ ذہنی وابستگی رکھتا تھا۔

تحریک خلافت میں بھی ملکی سیاست سے دوری وبیزاری اس مذکورہ جماعت کے مزاج کے ساتھ اسی لیے چپک کررہ گئی کہ اس کے بانی کا سیاسی مسلک یہی تھا ۔وہ ہندؤوں کوحربی اور ان کے ساتھ کسی بھی سطح پر تعاون کودین کے ساتھ بغاوت تصورکر تے تھے۔دیوبند کی روایت اس کے برعکس تھی۔اس نے حکومت اور نوابوں کے مالی تعاون کو شدت کے ساتھ ٹھکرایا اور اس کو ہمیشہ کے لیے اپنے اصول میں شامل کیا۔لیکن ہندو عوام کا چندہ قبول کیا کہ عوام کا چندہ، ہندوہوں یا مسلمان اخلاص پر مبنی ہوتا ہے۔(سوانح قاسمی: مولانا مناظر احسن گیلانی،ص،۳۱۷)۔دار العلوم میں ہندو بچوں کو بھی داخلہ دیا گیا اور یہ سلسلہ ایک عرصے تک جاری رہا۔(تاریخ دار العلوم: سید محبوب رضوی،ج،۱،ص،۱۹۴)

مولانا حسین احمد مدنی رح نے  کتاب "متحدہ قومیت" لکھ کر اس نظریے پر زور دیا اور مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست کوہندوستان کے تکثیری معاشرے کے لیے ماڈل قراردیا۔ اسی طرح انہوں نے ’’فضائل ہندوستان‘‘ کے نام سے کتاب لکھ کرہندوستان کے مسلمانوں میں حب الوطنی کے جذبات کو محض سیاسی نہیں بلکہ دینی بنیادوں پر فروغ دینے کی کوشش کی۔ دیوبند کی سیاسی فکر وعمل کی نمائندہ جمیعۃ علما ہند نے مسلمانوں میں ایک معتدل سیاسی فکر کو پروان چڑھانے اور اسے دینی اساس پر مضبوط کرنے کی کوشش کی۔

اسلام کی اجتماعی وسیاسی فکر کے حوالے سے ہندوستان کے دوسرے مکاتب فکر میں وہ نظریاتی اعتدال کم نظر آتا ہے جو اس خطے میں دین کی  نمائندگی کے لیے ضروری ہے۔

دار العلوم کے علما اپنے سیاسی و اجتماعی نظریات میں کسی بھی قسم کی تضاد پسندی کی نفسیات کے شکار نہیں رہے۔جمہوریت اور سیکولرزم ( اپنے مشرقی مفہوم میں)کو انہوں نے طاغوت اور دین کی نفی تصور نہیں کیا۔معروف دینی شخصیات یا علما میں یہ مولانا سعید احمد اکبر آبادی رح  تھے،جنہوں نے ماہنامہ بر ہان ۔دہلی میں سیکولرزم کی حقیقت پر متعدد قسطوں میں مضمون لکھ کر یہ ثابت کیا کہ سیکولرزم اپنے مشرقی معنی میں، جس پر ہندوستان جیسی حکومت کی اساس ہے، اسلام یا دین کی نفی نہیں ہے۔بلکہ یہ ایک سیاسی بندوبست سے عبارت ہے۔ اور مشترکہ سماج میں یہی قابل عمل ہے۔ انہوں نے ’’ نفثۃ المصدور‘‘ کے نام سے ہندوستان کی شرعی حیثیت پرکتاب مرتب کی اور ہندوستان کودار الامن قراد دیا۔

۲۰۰۸ میں دار العلوم دیوبند کی طرف سے دہشت گردی مخالف سیمینار ہوا۔ اس میں ملک کے مختلف مسالک کے لوگ مدعوتھے۔ ایک دوسرے مسلک کے بڑے عالم جو راقم الحروف کے اچھے اور دیرینہ دوست بھی ہیں،اس بات پر نہایت برافروختہ تھے کہ دعوت نامے میں ’’سیکولر اقدار کے تحفظ ‘‘ کی بات کہی گئی ہے جو سراسر گمراہی ہے۔ ان کی نظر میں سیکولرزم لادینیت کے ہم معنی ہے۔حالاں کہ یہ لوگ خلیج کی خاندانی بادشاہتوں کے تحفظ و تائید میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔حالیہ سالوں میں دہشت گردی کی جو وبا پھیلی ،اس پر غوروخوض کی پیش رفت کا سہرا بھی دینی حلقہ ہاے فکر میں دیوبند کے سر ہی جاتا ہے۔چناں چہ اس کی دہشت گردی کانفرنس کی آواز پوری دنیا میں سنی گئی۔

جہاں تک بین مسلکی کشمکش ( Intra- Sectarian Conflict)کا معاملہ ہے، جسے بین مذہبی کشمکش اور کشیدگی کی بعض پہلوؤں سے بنیاد سمجھا جاتا ہے، دار العلوم کی انتظامیہ اور اس کے علماو فاضلین دوسرے مکاتب فکرکے مقابلے میں زیادہ وسیع النظری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔اس تعلق سے اہم بات یہ ہے کہ دار العلوم کے علما نے اپنے مخالف مسلک کے علما ومتبعین کی تکفیر نہیں کی ۔جب کہ دوسری طرف یہ ایسا متفقہ مسئلہ ہے کہ ایک دیوبندی کے پیچھے نماز جنازہ پڑھ لینے سے نکاح باطل ہوجاتا ہے۔جس کا مظاہرہ چند سال قبل مراد آباد میں ہوا تھا اور میڈیا کے سامنے جنازہ پڑھ کر کافر ہوجانے والوں کے ایمان و نکاح کی تجدیدکی گئی تھی۔کئی اہم علما دیوبند کا یہ بھی خیا ل رہا ہے کہ دیوبند اور اہل سنت( بریلوی) کا اختلاف اصول کا اختلاف نہیں ہے ۔اس لیے دونوں جماعتوں کے درمیان مفاہمت اوربہتر تعلقات کی شکل پیدا ہونی چاہیے۔ 

ہندوستان میں مسلکی چپقلش کی صورت حال افسوس ناک ہے۔ہر ایک فریق کی طرف سے مناظرانہ لٹریچر کی گرم بازاری ہے۔بہت سے رسائل ومجلات کے صفحات اور مصنفین کے قلم و دماغ شب وروزاسی کے لیے وقف ہیں۔ اس معاملے میں سب سے کم سرگرمی حلقہ دیوبند کی طرف سے نظر  آتی ہے۔ اب علما و فضلاے دیوبندکی اکثریت "امکان نظیر" اور "امکان کذب" جیسی بحثوں کا مطلب بھی نہیں سمجھتی اور نہ سمجھنا چاہتی ہے جنہوں نے اس مسلکی کش مکش کی تشکیل و شناخت میں اہم کردار ادا کیا۔

اس بات کا اعادہ بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اصل میں دارالعلوم دیوبند پر انتہا پسندی کا الزام پڑوسی ممالک کی سیاسی صورت حال سے جڑا ہوا  ہے۔خاص طور پر طالبان کی بعض کوتاہیوں نے دیوبند کواس الزام کے گھیرے میں لانے اور اس کے خلاف دار وگیر کا ما حول بر پا کرنے میں اہم رول ادا کیاہے،حالاں کہ بنیادی طور پر اس حقیقت کوپیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ قدیم وجدیدطالبان حنفی ہیں اور صرف فقہی مسائل میں دیوبندکے پیروکا ر ہیں سیاسی مسلک میں نہیں۔ ان کا سیاسی مسلک و موقف خود اس خطے کے سیاسی حالات و واقعات پر مبنی ہے۔اس میں ان کی دیوبندیت کو دخل نہیں ہے ۔دیوبند کے بعض اہم علما نے کھل کر طالبان کے بعض غلط اقدامات پر تنقیدکی ۔چناں چہ دار العلوم دیوبند وقف کے سرپرست ومہتمم مولانا سالم قاسمی ؒنے بی بی سی لندن کے ساتھ ایک انٹر ویو میں برملا طور پر طالبان کے ذریعےبامیان میں بدھ کے مجسمے کی مسماری کے عمل کوغیر اسلامی قرار دیا تھا۔

بہر حال اس تحریر کا مقصد کسی بھی دوسرے مسلک کے پیرو کاروں کو ہدف طعن وتنقید بنا نا نہیں ہے۔صرف اس بات کا اظہارمقصود ہے کہ دار العلوم دیوبند اور اس کی فکر پر پر بعض حلقوں کی طرف سے انتہا پسندانہ نظریات کو بنیاد فراہم کرنے اور انہیں فروغ دینے کا جو الزام عائد کیا جاتا رہا ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔ وہ چند در غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔ دیوبند کی فکر وعمل کو انصاف کے ساتھ ان کے صحیح تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
 

مضمون نگار جامعہ ہمدردنئی دہلی میں شعبہ اسلامک اسٹڈیزکے اسسٹنٹ پروفیسرہیں