رضوی کی "کتاب" مغلظات کا پٹارہ۔۔علماء کا اس بارے میں مزید توجہ نہ دینے کا فیصلہ

رضوی کی "کتاب" مغلظات کا پٹارہ۔۔علماء کا اس بارے میں مزید توجہ نہ دینے کا فیصلہ

معاذ مدثر قاسمی

ممبئی،24 / نومبر2021:   ہمیشہ مسلمانوں کےخلاف  متنازع بیان دینے اور نت نئے شوشے چھوڑ کرموضوع بحث بنے رہنے والا رضوی نے ہندی زبان میں ایک نام نہاد کتاب شائع کرکے مسلمانوں کےاندر ایک  مرتبہ پھر بے چینی اور غم و غصہ کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست نشانہ بناگیا اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف مغلظات کا استعمال کیا گیا ہے۔ کئی ملی تنظیموں نے مستقبل کے خدشات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کتاب کو پڑھ کر اسکا ایک مسکت جواب دینےکی خواہش ظاہر کی۔ اسی سلسلے میں ملک و بیرون ملک کے علماء و دانشوران، جوبنیادی طور پر دارالعلوم دیوبند کے فضلاء اور مرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹرکے ابنائے قدیم ہیں نے 21/ نومبر 2021 بروز اتوار  ایک ویبنار کاانعقاد کیا. جس میں اس نئی کتاب کے خد وخال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ ویبنار کا آغاز مفتی طہ قاسمی کی تلاوت کلام پاک سے کیاگیا اور مفتی قیام الدین قاسمی کی نعت پاک کے بعد مولانا محمد برہان الدین قاسمی (ممبئی) اورمولانا محمد افضل قاسمی (لندن) نے موضوع پر کافی تفصیلی گفتگو کی، ان کے علاوہ کئی شرکاء بشمول مولانا پرویز عالم قاسمی (آسام)، مولانا محمد صداقت قاسمی (دیوبند)، مولانا مدثر احمد قاسمی (بہار)، مولانا اسلم جاوید قاسمی (ممبئی)، مفتی محمد فہیم عثمانی (رامپور) و غیرھم نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

شرکاء میں اکثریت مصنفین اور دینی، علمی و سماجی میدانوں میں کام کرنے والے اہل قلم تھے جنہوں نے پوری کتاب کاتحقیقی وتنقید ی جائزہ لینے کے بعد کتاب سے بہت سے اقتباسات پیش کیے جس سے کتاب میں موجود اغلاط کی بھرمار اور سطحیت کا بخوبی اندازہ ہوتاہے۔  کتاب پر تفصیلی مباحثہ کے بعد اراکین اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ کتاب کسی بھی طرح علمی جواب دینے کے قابل نہیں ہے، یہ کوئی کتاب ہی نہیں بلکہ محض گالیوں کا ایک پٹارہ ہے، اس میں کھلے طورپر آقاء نامدار صلی اللہ علیہ وسلم، ان  کے اصحاب، ازواج مطہرات اور پوری امت مسلمہ خاص کر مسلمانان ہند کے خلاف انتہائی غلیظ زبان کا استعمال کیاگیا ہے جسے ایک عام مسلمان اپنی زبان سے ادا کرنا بھی  کسی طرح گوارہ نہ کرے۔

پوری کتاب کو پڑھنے والے چند شرکاء ویبینار کا ماننا ہے کہ ابتدائی 9/ صفحات کو چھوڑ کر بقیہ پوری “کتاب“ جو  گالیوں سے پر ہے اس نام نہاد مصنف کی ہے ہی نہیں۔  157 صفحات کی یہ تحریر جسے اس نے غلط طریقہ سے اپنے نام سے ایک کتاب کے طور پر منسوب کیا ہوا ہے یہ دراصل کوئی نئی چیز نہیں ہیں، نہ یہ اس کی تصنیف ہے، بلکہ اس نے  دوسرے اسلام دشمن لوگوں کی پرانی تحریر سے چرایا ہے اور گوگل کی مدد سےہندی میں ترجمہ کرکے اپنے نام سے شائع کردیا ہے۔ جو باتیں، جو گالیاں اور جونازیباکلمات اس نام۔ نہاد کتاب میں جمع کی گئی ہیں وہ وہی باتیں ہیں جو نبوت کے اعلان کے بعد سے ہی دشمنان اسلام اور یہودیوں نے حضورﷺ کے خلاف استعمال کیاہے، اور مسلم علماء کرام پہلے ہی ان سب ہفوات کا بخوبی اور تفصیلا جواب دے چکے ہیں۔  اس کتاب میں کچھ سطحی باتیں اور نازیبا کلمات بالکل سیاسی قسم کے ہیں۔ جیسے موجودہ مسئلہ کشمیر، ہندوستان میں مسلمانوں کی حکمرانی، ان کی آبادی و غیرہ جیسے موضوعات جو موجودہ دور میں مسلمانوں کے خلاف ایک عام سی بات ہے، جس کا مسلمان روزانہ کی بنیاد پر سامناکرتے آرہےہیں۔

ان صفحات کو پڑھنے کےبعد اندازہ ہوتاہے کہ رضوی علم سے بالکل نابلد اور جاہل محض ہے کہ وہ مسلمان، صحابہ کرام ( مردوخواتین ) کے مشہور نام بھی صحیح سے نہیں لکھ  پایا،  چہ جائے کہ وہ قرآن وحدیث کے حوالے سے کچھ سنجیدہ سوالات قائم کرسکے۔ ممکن ہے اسے ہتھکنڈے کےطورپر سیاسی مفاد کی خاطر دوسرے استعمال کررہے ہیں یا وہ اپنی ذاتی مفاد کے لئے استعمال ہورہا ہے۔ الغرض یہ کتاب غلاظت، ناشائستہ زبان اور اغلاط کامجموعہ ہے جس پر کسی طرح کا تحقیقی کام کرنے کے متعلق سوچابھی نہیں جاسکتا۔

گالیوں کا جواب گالیوں سے دیا جاسکتاہے، لیکن مسلمانوں کا یہ شیوہ نہیں ہے، بدامنی پہلانے والے چاہتے ہیں کہ مسلمان نامناسب ردعمل کریں اور ان کا کام بنیں اس لیے ویبینارمیں یہی فیصلہ کیاگیا کہ اس کتاب کا کسی طرح کوئی جواب نہ دیاجائے، اس شخص کا، اس کی کتاب کا نام لینا بھی مناسب نہیں ہے اس لئے اس کو مصنف سمجھ کر اس کی کتاب پر کوئی بھی رد عمل سے کریز کیا جائے.

بہر کیف اس موقع پر چند تجاویز پاس کیے گئے جو اس طرح ہیں:

(1)      ایمان، عقیدہ، حلال وحرام کے ساتھ پیارے نبی کریم ﷺ کی سیرت بھی اسلام کا ایک اہم پہلو ہے، جسے ہر مسلمان کو سیکھنا اور جانناچاہیے، لہذا یہ فیصلہ کیاگیاکہ ویڈیو، آڈیو، ہندی اور انگریزی جیسی زبانوں میں  رسالے اور کتابوں کی اشاعت کے ذریعہ حضور ﷺ کی سیرت کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کے لیے منظم طریقے سے جلد از جلد کام کا آغاز کیاجائے۔ اسی سلسلے میں مولانا مدثر احمد قاسمی کی کتاب  "رسول اکرم ﷺ کی عملی زندگی ۔۔ اور ہم --کتنے دور کتنے  پاس" جو انگریزی اور اردو میں موجود ہے، کو حالات کے تقاضے کے مطابق کچھ اضافے کے ساتھ ہندی زبان میں پہلی فرصت میں شائع کیاجائے اور خوب سے خوب عام کیاجائے۔

(2)      سیرت پر اسکول لیول پر انگریزی میں کوئز پروگرام قومی سطح پر منعقد کیے جائیں جو پہلے سے کامیابی کے ساتھ مرکز المعارف، آسام میں جاری ہے اور اس پر مولانا محمد برہان الدین قاسمی صاحب کی کتاب کو بھی جلد از جلد منظر عام پر لائی جائے.

(3)      چونکہ ہندوستان میں اب ہندی زیادہ پڑھی جانے والی زبان بن چکی ہے اس لیے اب انگریزی کے ساتھ ساتھ ہمارے علمی کاموں کی زبان ہندی بھی ہو۔ سیرت کے عنوان پر جوکتابیں موجود ہیں ان کو ہندی میں منتقل کر نے کی کوشش تیز کیا جائے اور چھوٹے چھوٹے ویڈیو کلپس ہندوستانی زبانوں میں تیار کر کے سوشل میڈیا کے ذریعہ عام کیا جائے.

(4)      ائمہ وخطباء صرف ربیع الاول کے موقع پر ہی سیرت کے عنوان کو اپنا موضوع خطاب نہ بنائیں بلکہ وقتافوقتاآپ ﷺ کی ازدواجی، سماجی، معاشرتی زندگی کو بھی موضوع خطاب بنایاجائے نیز سیرت، قرآن و سنت اور اسلام پر غیر مسلمین کے اعتراضات کا علمی جواب بھی اپنے بیانات میں وقتاً فوقتاً شامل فرمائے.

 

تحریر:  معاذ مدثر قاسمی (شریک ویبنار)