لوگوا کا کہی (لوگ کیا کہینگے)؟

لوگوا کا کہی (لوگ کیا کہینگے)؟
ڈاکٹرمفتی محمد عبید اللہ قاسمی، دہلی
 
اوکھلا, دہلی کی گلیوں میں کشمیری لوگ پیٹھ پر چادروں اور شالوں کا گٹھر لادے گھومتے رہتے ہیں اور انہیں فروخت کرنے کے لئے بہت اونچی لگاتے رہتے ہیں تاکہ اونچی منزلوں تک آواز پہنچ جائے. وہ اسے دوسرے علاقوں میں بھی کرتے ہونگے. ان کی مسلسل تیز آوازوں سے پڑھنے لکھنے والوں کو کچھ خلل بھی ہوتا ہے. مگر ان لوگوں پر ترس بھی آتا ہے اور یہ قابلِ رشک بھی لگتے ہیں. یہ بہت اچھی بات ہے کہ رزقِ حلال کے لئے وہ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلارہے ہیں بلکہ جفاکشی کررہے ہیں اور تجارت کرکے اپنی بیوی اور بچوں اور والدین کو کھانا اور دیگر ضروریات فراہم کررہے ہیں. یہ بھی بہت اچھی بات ہے کہ وہ اس کی پروا نہیں کرتے کہ لوگ کیا کہینگے؟ ہمارے ہندستانی معاشرے میں یہ بہت بڑی خرابی موجود ہے کہ لوگ بیکار رہنا یا دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا پسند کرتے ہیں مگر کوئی چھوٹی تجارت یا چھوٹا کام کرنا عار کی بات سمجھتے ہیں جبکہ تقریبا ہر بڑی تجارت کے پیچھے چھوٹی تجارت کی تاریخی حقیقت موجود ہوتی ہے. ملک کے اولین صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرشاد جو سیوان بہار سے تعلق رکھتے تھے بھوجپوری زبان میں ان کا ایک ملفوظ والد صاحب رحمہ اللہ سنایا کرتے تھے کہ یہاں کے لوگ اس وجہ سے تباہ ہیں کہ وہ سوچتے ہیں کہ "لوگوا کا کہی" یعنی لوگ کیا کہینگے؟ اِس "لوگوا کا کہی (لوگ کیا کہینگے)؟" نے لوگوں کو تباہ کررکھا ہے، انہیں دھوکہ میں مبتلا کردیا ہے اور انہیں نکما بناکر ان کا گھر اجاڑ دیا ہے. اگر انسان اللہ تعالی کے ذریعے جائز کئے گئے کاموں میں سے کسی بھی کام کو کرے اور اللہ پر توکل کرے اور دعاء کرے تو اللہ تعالی اسے محروم نہیں کرتے ہیں اور ترقی عطا کرتے ہیں. اگر کوئی اور کام نہ ملے تو مسلمان کو سڑک پر ٹھیلا لگاکر حلال روزی کا ذریعہ اختیار کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھنا چاہیے. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی کو کلہاڑی تھماکر انہیں جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر تجارت کرنے کے لئے روانہ کردیا تھا. کیا سڑک پر ٹھیلا لگانا اس سے چھوٹا کام ہے؟ ہرگز نہیں. کیا ہم حضور علیہ السلام کے صحابہ سے زیادہ عزت رکھتے ہیں اور اونچی ناک والے ہیں؟ ہرگز نہیں. تجارت میں اللہ تعالی نے برکت زیادہ رکھی ہے. حلال روزی کے ذرائع کے بارے میں مسلمان شخص کو برابر سوچتے رہنا چاہئے اور کام شروع کردینا چاہئے. ایمانداری کے ساتھ کی جانے والی چھوٹی تجارت میں بھی اللہ تعالی برکت اور ترقی عطا کردیتے ہیں. رب العالمین کی طرف سے تو یہ آواز مسلسل لگائی جاتی رہتی ہے "ہم تو مائل بکرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں."
 
مضمون نگار دہلی یونیورسیٹی میں اسسٹینٹ پروفیسر ہیں۔