ممبئی کی مختلف مکاتب فکر کی ملی تنظیموں کا سعودی حکومت سے مطالبہ

ممبئی کی مختلف مکاتب فکر کی ملی تنظیموں کا سعودی حکومت سے مطالبہ
 حجاز کے مقدس خطہ سے فورا تمام ناجائز اڈے ہٹائے جائیں،  تبلیغی جماعت پر پابندی کی مذمت اور دیگر مسالک کے مذہبی جذبات کی رعایت رکھنے کا بھی مطالبہ

    ممبئی۔  ۱۵ دسمبر: دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے مقدس ترین سرزمین حجاز پر سعودی عرب کی حکومت پچھلے کچھ عرصے سے ناچ گانوں کے اڈے، جوئے خانے، شراب خانے قائم کررہی ہے، نیز دیگر بے پردگی اور فحاشی جیسے  ناجائز وحرام کاموں فروغ دیا جارہا ہے،  اس سے ساری دنیا کے کڑوڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچ رہی ہے ـ

سعودی عرب میں ڈکٹیٹر شپ جیسی سختی کے  ساتھ آل سعود کا خاندانی بادشاہی نظام چل رہا پے، وہاں کسی بھی جماعت کو کسی بھی سیاسی، سماجی، تعلیمی،  معاشی اور معاشرتی سرگرمیوں کی اجازت پہلے بھی نہیں تھی، مگر موجودہ بادشاہ اور ولی عہد کے آنے بعد وہاں کی عوام کو مزید سختی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، بڑی تعداد میں لوگوں کو انسانی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے، سرکاری عملے میں کرپشن بھی عام ہورہا ہے، ان سب بدعنوانیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے اور اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لئے اپنے عوام کو ناچ گانے، کھیل کود اور عیش و عشرت کی طرف موڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

اسی طرح وہ لوگ اور وہ جماعتیں جو لوگوں کو غلط راستے پر جانے سے روک رہے ہیں حکومت ان کو اپنا دشمن سمجھتی ہے، عوام کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرنے والے بہت سےعلماء اور دانشوران کو غائب کرادیا گیا، بہت سے جیلوں میں پڑے ہیں ـ اسی لئے تبلیغی جماعت پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے اور مسجدوں کے اماموں پر دباو ڈالا گیا ہے کہ اپنے خطبات میں تبلیغی جماعت کی برائیاں کریں، جماعت پر غلط اور بے بنیاد الزامات بھی لگائے جارہے ہیں۔

  واضح رہے کہ تبلیغی جماعت بنیادی طور پر ہمارے ملک سے نکلی جماعت ہے، اس کا کوئی سیاسی ایجنڈا کبھی نہیں رہا، ان کا مقصد صرف مسلمانوں کو مسجد سے جوڑنا اور کلمہ نماز کی تبلیغ کرنا ہے، اس کے علاوہ یہ حضرات دوسرا کوئی کام نہیں کرتے۔  ہندوستان سے نکل کر یہ جماعت دنیا کے دوسو سے زیادہ ملکوں میں کام کررہی ہے، کڑوڑوں لوگ اس سے جڑے ہوئے ہیں جو اپنا مال صرف کرکے اس جماعت کو وقت بھی دیتے ہیں۔   تقریبا تمام ملکوں نے قانونی طور پر اس جماعت کو اپنے یہاں کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، کہیں سے بھی یہ شکایت کبھی نہیں ملی کہ یہ جماعت کسی بھی طرح کے تشدد اور دہشت گردی کا حصہ رہی ہو۔  ......... مسلمانوں میں اگرچہ بہت سے لوگ تبلیغی جماعت سے پوری طرح اتفاق نہیں رکھتے مگر وہ بھی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ اس جماعت کا تعلق کبھی بھی تشدد اور دہشت گردی سے نہیں رہا ـ مگر تعجب کی بات ہے کہ سعودی حکومت اس بے ضرر جماعت کو دہشت گرد قرار دے رہی ہے۔

 آج ممبئی کے مراٹھی پترکار سنگھ میں مخلتف ملی تنظیموں کی پریس کانفرنس میں سعودی حکومت سے یہ مطالبات کئے گئے کہ حجاز کے پاک مقدس علاقے سے فورا ناچ گانے، جوئے خانے اور فحاشی کے اڈے بند کئے جائیں،  تبلیغی جماعت پر لگائی گئی  پابندی ہٹائی جائے اور اس کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے پر معافی مانگی جائے، اسی طرح یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ  حکومت مسلمانوں کے دیگر مکاتبِ فکر اور مسالک کے لوگوں پر بے جا سختیوں سے پرہیز کرے۔  حرمین شریفین سعودیوں کی ذاتی میراث نہیں ہے بلکہ وہ تمام مسلمانوں کی امانت ہے، ساری دنیا کے مسلمانوں کا مرکز عقیدت ہے، سعودی حکومت کا فرض ہے کہ وہ تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا خیال رکھے۔مختلف   ملی تنظیموں  کی طرف سے  مشترکہ طورپر ایک پریس ریلیز جاری کیا جس میں     ۱ـ  مولانا محمود احمد خاں دریابادی، جنرل سکریٹری آل انڈیاں علماء کونسل،  ۲ ـ مفتی حذیفہ قاسمی، ناظم تنظیم جمیعۃ علماء مہاراشٹرا،  ۴ ـ مولانا عبدالرشید بھوئرا جنرل سکریٹری انجمن اہل سنت جماعت،  ۵ ـ مولانا انیس احمد اشرفی، صدر رضا فاونڈیشن ، ۶ قاضی فیاض عالم قاسمی، دارالقضاء ممبئی،  ۷ ـ ڈاکٹر سلیم خان، نمائندہ جماعت اسلامی،  ۸ ـ ڈاکٹر عظیم الدین صدر ایم ایچ ڈبلیو، ۹ ـ  فرید شیخ، صدر ممبئی امن کمیٹی ،  ۱۰ ـ  سلیم موٹر والا، ملی شوری،   ۱۱ ـ قاضی ریاض احمد ،  ۱۲ ـ مولانا طہ جونپوری  کے دستخط شامل ہیں۔