آل انڈیا علماء کونسل نے مالس میں شراب کی فروخت، کرناٹک کے بعض اسکولوں میں باحجاب مسلم طالبات پر روک اور حج ہاوس ممبئی میں ہونے والی من مانیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا

آل انڈیا علماء کونسل نے مالس میں شراب کی فروخت، کرناٹک کے بعض اسکولوں میں باحجاب مسلم طالبات پر روک اور حج ہاوس ممبئی میں ہونے والی من مانیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا

                            

6 فروری ، ممبئی: آل انڈیا علماء کونسل کی مجلس عاملہ کی میٹنگ شالیمار ہوٹل بھنڈی بازار ممبئی میں زیر صدارت بزرگ عالم دین مفتی سلیم اختر مجددی منعقد ہوئی، ابتدا میں سکریٹری جنرل مولانا محمود احمد خاں دریابادی نے پچھلی کارکردگی کی مختصرا رپورٹ پیش کی، پھر بعض ضرورہی تنطیمی معاملات زیر بحث آئے ، اس کے بعد موجودہ حالات پر تبادلہ خیال ہوا ـ

حکومت مہاراشٹر نے جو سوپر مارکیٹ اور مالس میں آزادانہ شراب کی فروخت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، کہ یہ فیصلہ سماج کے لئے بہت نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے، اس سے عوام کی صحت، امن وامان اور خاندانوں کا آپسی اتحاد خطرے میں پڑ سکتا ہے، حکومت مہاراشٹر سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ  فورا اپنا یہ فیصلہ واپس لے ـ طے کیا گیا کہ اس سلسلے میں حکومت مہاراشٹرا کے ذمہ داران خصوصا وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے، این سی پی چیف شرد پوار اور متعلقہ وزیر سے علماء کونسل کا ایک وفد ملاقات کرکے اس سلسلے میں مطالبہ کرے گا ـ

کرناٹک کے بعض تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کو حجاب کے ساتھ داخل ہونے پر روک کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جن اداروں میں ایسی پابندی لگائی گئی ہے وہ ہندوستان کے دستور میں دی گئی مذھبی آزادی کے خلاف ہے، ایک طرف حکومت بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو کا نعرہ لگاتی ہے دوسری طرف بیٹیوں کی تعلیم کے راستے میں روڑے بھی اٹکاتی ہے، اس سلسلے میں طے کیا گیا کہ دستور کی اس کھلی خلاف ورزی کو روکنے کے لئے عدالت کا سہارا لیا جائے اور اگر آئندہ ضرورت پڑے تو عوامی تحریک بھی شروع کی جائیگی ـ

حج ہاوس ممبئی میں موجودہ سی ای او کے تقرر کے بعد جس طرح وہاں ٹرینگ حاصل کررہے طلبا کی تعداد نصف کردی گئی ہے، اور سابقہ آفیسرز کے زمانے میں جو حج ہاوس کے اندر مختلف ملی، سماجی اور مذہبی سرگرمیاں چلتی تھیں ان پر بھی بڑی حد تک قدغن لگادیا گیا ہے ـ  اس معاملے میں طے کیا گیا کہ مرکزی حکومت کے ذمہ داران کو خط لکھا جائے اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی سے ملاقات کرکے مطالبہ کیا جائے کہ جس طرح سابق میں حج ہاوس میں تعلیمی، ملی، سماجی اور مذہبی سرگرمیاں چلتی تھیں ان کو مکمل بحال کیا جائے ـ

اتر پردیش سمیت پانچ ریاستوں میں انتخابات کے سلسلے میں یہ اعلان کیا گیا کہ تمام باشندے اپناووٹ کا دستوری حق ضرور استعمال کریں، غیر فرقہ پرست، بھائی چارہ کو فروغ دینے والی، استحکام، تعلیم وترقی کا سابقہ بہتر ریکارڈ رکھنے والی اور فسطائی طاقتوں کے خلاف سب سے مضبوط پارٹی کو ووٹ دیں ـ

تلاوت کلام پاک سے شروع ہونے والی یہ میٹنگ مرحومین کے لئے اظہار تعزیت اور دعا کے بعد اختتام کو پہونچی ـ

 شرکا میں مفتی سلیم اختر مجددی، مولانا محمود خاں دریابادی، مولانا سید اطہر علی، مولانا اعجاز کشمیری، مولانا خلیل الرحمان نوری، مولانا برہان الدین قاسمی، ڈاکٹر سلیم خان، طاہر علی خاں، مولانا رشید احمد ندوی و دیگر افراد شریک تھے ـ