زبان کی اہمیت اورہم اسے کیوں اور کیسے سیکھیں؟

زبان کی اہمیت اورہم اسے کیوں اور کیسے سیکھیں؟

 

خلاصۂ آن لائن خطاب:  حضرت مولانامحمد افضل صاحب قاسمی

 استاذ حدیث دارالعلوم بولٹن، لیکچرار بلیک برن کالج،برطانیہ (یو کے)

بموقع: افتتاح آن لائن شارٹ ٹرم  انگلش لرننگ کورس

زیر نگرانی: مرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر جوگیشوری، ممبئی

 

حامداومصلیا، أمابعد!

أعوذباللہ من الشیطان الرجیم      بسم اللہ الرحمن الرحیم

وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ۔

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَالْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔

عن أبي ذر قال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :  لم یبعث اللہ رسولا إلا بلغۃ قومہ۔
 

قرآن کی زبانی یہ بات کہی جارہی ہے کہ زبان اور رنگوں کا مختلف ہونا یہ بھی خداکی  نشانیاں ہیں، یہ نشانی عام لوگ نہیں سمجھ سکتے ؛بلکہ جو علم رکھنے والے ہیں وہی اس فرق کو سمجھ سکتے ہیں۔  کوئی زبان خدا کی نشانی کیسے ہے؟ تھوڑاساغور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر انسان کے  پاس بولنے کی صلاحیت نہ ہوتو پھر تمام تر صلاحیت ہونے کے باوجود وہ اپنی ساری صلاحیتوں کے اظہار سے عاجز ہوجائے گا۔ آپ اندازہ لگائیے کہ یہ زبان کا ہونا کتنا اہم ہے اور اسکی کتنی اہمیت ہے۔

 ابھی ہم زبانوں کے دور میں رہ رہےہیں۔ پہلے کے دور میں کسی زبان سے کسی درجہ تک استغنا برت سکتے تھے۔مگر اس دور میں زبان کی اہمیت کاکوئی انکار نہیں کرسکتا۔  یاد رہے کہ ہرزبان  اللہ کی پیدا کردہ ہے ۔ ہم کو کسی زبان سے بحیثیت زبان نفرت نہیں ہونی چاہیے؛ کیوں کہ زبان خدا کی نشانیوں  میں سے ہے۔ مفسرین نے "علم آدم الاسماء کلھا " کی تفسیر میں لکھاہےکہ خدانے حضرت آدم علیہ السلام  کو 72 زبانیں سکھائی تھی، گویاوہ سب سے بڑے Polyglot  (پولی گلاٹ )تھے۔   72  اس معنی کرکے کہ وہ ان زبانوں کے لئے اصول ہیں، روٹ اسٹریم کے درجہ میں ہیں۔ ورنہ بعض ماہرین کاکہناہےکہ صرف ہندوستان میں  مجموعی طورپر چار سو ساٹھ زبانیں بولی یاسمجھی جاتی ہیں ۔ پندرہ زبانیں توصرف ہماری ہندوستانی نوٹس پرہیں۔

بہر کیف ! زبان کے حوالے سے ہمارے ذہن میں یہ بات رہے کہ حضرات انبیاء کو ان کی قوم کی زبان میں مبعوث ہی نہیں بلکہ بہترین بولنے والابناکر پیدا فرمایا گیاتھا۔ حضرت موسی علیہ السلام  کی دعاجو انہوں نے  اپنے بھائی کے لئے کی ، بلکہ نبوت کی سفارش کی تو اس کی  سب سےبڑی وجہ اور سب سے  خاص صفت جو انکواپنے بھائی میں نظر آئی وہ زبان ہی کی خصوصیت تھی جسکو انہوں نے خدا کے سامنے پیش کیا۔  جسےقرآن نے ذکرکیا :  " وَ اَخِي هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِي  "  کہ  میرےبھائی ہارون  کی زبان مجھ سے زیادہ صاف ہے تو اسے میری مدد کے لیے رسول بنا کربھیجیے۔۔وہیں دوسری طرف حضرت موسی علیہ السلام کی زبان میں لکنت تھی ، جس کو فرعون نے حقارت کے طورپرکہاتھا   " امْ اَنَا خَیْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ مَهِیْنٌ وَّ لَا یَكَادُ یُبِیْنُ"   ۔ یا میں اس سے بہتر ہوں جو معمولی سا آدمی ہے اور صاف طریقے سے باتیں کرتا معلوم نہیں ہوتا۔  نعوذ باللہ فرعون کی نظر میں حضرت موسی علیہ السلام کی ایک کمزوری جو نظر آئی گرچہ وہ کمزوری ہماری اور اللہ کی نظر میں نہیں تھی وہ صرف فرعون کو لگی جس کو قران نے کہا "ولایکادیبین"۔اور صاف طریقے سے باتیں کرتا معلوم نہیں ہوتا۔

قوت گویائی  اور فصاحت کلامی یہ ایک ہنر ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے کہا  "وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ"   ہم نے ہر رسول کو انکی قوم کی زبان میں ہی بھیجا؛ تاکہ وہ کھل کر وضاحت کے ساتھ  اپنی بات رکھ سکیں۔ آپ  نبی  کریم ﷺ کی احادیث  مبارکہ کو پڑھیں ۔ آپ کو اندازہ ہوگاکہ حضور ﷺبغیر کہیں جائے، کسی کے پاس ز انُوے تَلَمذ تَہ کیے  بغیرآپ کی زبان کتنی عمدہ  تھی ، کہ آپ حضورﷺکی احادیث کو پڑھ کر عش عش کریں، ظاہر ہے یہ اللہ کا عطیہ اور اسکی قدرت تھی۔۔ حضورﷺ  نےخود  فرمایا  " أناافصح العرب"۔کہ میں عرب میں سب سے زیادہ فصاحت سے بولنے والا ہوں۔

زبان کاہونا اور اچھی زبان کا ہونا یہ اللہ کی ایک نعمت ہے۔ زبانیں سیکھنی چاہیے اور ایک نہیں بلکہ ایک سے زائد زبانیں سیکھنی چاہیے ، حضرات صحابہء کرام میں کتنےایسے صحابی ملیں گے جو درجنوں زبان سے واقفیت رکھتے تھے، خود حضور نے دعوتی مطمح نظرسے اپنے صحابی کو ایک سے زائد زبانیں سیکھنےکی ترغیب دی۔

برسبیل تذکرہ یہ بتانا مناسب سمجھتاہوں کہ جو ایک زبان بولتے ہیں اسکو یک لسانی، دوزبان بولنے والے کو دو لسانی اور تین زبان بولنے والے کو سہ لسانی بولتے ہیں۔  اسی طرح انگلش میں ایک زبان  بولنے والے کو  monolingual  مونولینگول،  دولسانی کو  bilingual بائی لنگول، سہ لسانی کو  trilingual ٹرلی لنگول، اور  چار سے زائد زبان بولنے والے کو polyglot  پولی گلاٹ بولتے ہیں۔

حضرات صحابہ کرام میں ایک نوجوان صحابی  حضرت زید بن ثابت ہیں جو ہم جیسے زبان پڑھنے پڑھانے  والوں کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکہ پوری امت پر ان کااحسان ہے۔ جو قرآن جوپڑھ رہاہے ، سن رہاہے یا تفسیر کررہاہے وہ ہمیشہ حضرت زید بن ثابت کااحسان مندرہےگا؛ کیوں کہ اللہ نے ان کوایک عظیم مقصد کےلئے منتخب کیا۔قرآن کریم جو آج اس شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے وہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔  ان کے بارے میں آتاہے کہ جب حضور مدینہ آئے تو انکی عمر گیارہ سال تھی ،  وہ یتیم تھے ، انکو حضور کی خدمت میں لایاگیا اور کہاگیاکہ سترہ سورتیں انکو زبانی یاد ہیں ۔ حضورتو بہت ہی ماہر، مردم شناس تھے ، حضور نے سننے کے بعد انکوفرمایا: کہ میں چاہتاہوں کہ تم عبرانی زبان سیکھ لو، مجھے یہودی پر اطمینان نہیں ہے کہ وہ کیاکہتے  اور کیا نقل کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے یہودی کے درمیان رہ کر صرف پندرہ دن میں وہ زبان سیکھ لی۔

  مسند احمد میں ایک روایت ہے، اسے  ابن عبدالبر نے بھی نقل کیاہے کہ حضور نے ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت سے فرمایا کہ" اتحسن السریاني؟" کہ کیا تم سریانی اچھے بول لیتے ہو؟ ایک ہوتاہے کہ تھوڑی بہت سیکھ لی،  ہیلو ہائے کرلیا ،تو یہ مطلوب  نہیں ہے ؛بلکہ مہارت کی حد تک سیکھنا چاہیے۔ تو حضور کے کہنے پر حضرت زید نے سترہ دنوں میں سریانی زبان سیکھ لی۔ اس کے بعد کسی فارسی سے اٹھارہ دنوں میں فارسی سیکھ لی۔ پھر انہوں نے رومن زبان سیکھ لی، قبطی زبان جو مصر وغیرہ میں بولی جاتی ہےوہ زبان بھی سیکھی،انہوں نے پھر ابی سینیا یعنی حبشہ کی حبشی زبان سیکھی۔ اس طرح عربی سے ہٹ کر انہوں نے تقریبا چھ زبانیں سیکھی ، اور اس میں کام کیا۔ حضور کے وصال کے وقت حضرت زید کی عمر محض اکیس سال تھی۔ تو گویا اکیس سال کے نوجوان میں چھ زبان کی مہارت آگئی۔ زبان کے تعلق سے خوداپناواقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حتی حذقت۔ کہ میں ماہر ہوگیا۔

ویسے دنیامیں پولیگلاٹ بہت سے ہیں مگر ہمارے حلقے کی ایک عظیم شخصیت  ہیں جنہیں ہم پروفیسر حمید اللہ صاحب کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ حیدرآباد کے ہیں۔ ان کے بارے میں کہاجاتاہے انہوں نے  پانچ سال کی عمر میں حفظ کرلیاتھا، اپنی ذاتی کوششوں سے  انگلش سیکھ لی ۔ بعد میں نظامیہ میں تعلیم حاصل کی ، پھر عثمانیہ میں تعلیم حاصل کی، وہاں انہوں نے علامہ گیلانی کے پاس پڑھا۔  1948ء میں  وہ ایک وفد کے ساتھ یو این او گئے، اس وقت حیدرآباد ہندوستان کا حصہ نہیں تھا، اسی وقت حادثہ رونما ہوا اور حیدرآباد کوہندوستان میں شامل کیاگیا۔ وفد میں شامل تمام لوگ ہندوستان واپس آگئے مگر وہ نہیں آۓ؛کیوں کہ وہ ہندوستان میں شمولیت کے لئے متفق نہیں تھے،لہذا انہوں نے فارس میں اجنبیت کی زندگی گزاری ،  وہاں رہتے ہوئے  انہوں نےبائیس زبانیں سیکھی ، اور ان میں سے سات زبانیں ایسی تھی جن میں وہ  یکساں مہارت رکھتے تھے ۔ وہ فارسی ، اردو ،عربی ، ترکی ، اورفرانسیسی زبان میں یکساں دسترس رکھتے تھے۔

 انہوں نے قران کاترجمہ فرانسیسی زبان میں کیا۔ یہ پہلے عالم تھے جنہوں نے اس زبان میں قران کا ترجمہ کیا ، ممکن ہے مستشرقین نے پہلے کیاہو، مگر ہم میں سے ایک شخص اٹھ کرفرانس جاتاہے اور وہاں جاکر اس زبان میں پی ایچ ڈی کرتاہے اور قران کاترجمہ کرتاہے۔ اور وہ ترجمہ مجمع الملک فہد لطباعۃ المصحف الشریف،  (مدینہ میں کنگ فہد قران پرنٹنگ کملیکس ہے) وہاں سے اب تک پچیس سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ دوہزار دو یاتین میں جب انکا انتقال ہواتو بہت سے مقالے ان پر لکھے گئے ، (البعث الاسلامی) جو ندوہ سے نکلتاہے، اس میں رپورٹ شائع ہویٔ کہ پچاس ہزار سے زائد لوگوں نے فرانس میں انکی کوششوں ، تحریروں  اور انکی  سادگی سے متاثر ہوکر انکے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اندازہ لگائیے  اس شخص نے کتنی محنت کی ہوگی۔ اللہ نے  ان کوعمر بھی لمبی دی تھی، تقریبا چورانوے سال بقید حیات رہے۔ عمر کے آخری مرحلے میں یعنی چوراسی سال کی عمر میں ہندوستان کی سنسکرت زبان سیکھی۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر انسان میں جذبہ ہوتو پھر دنیا کا کوئی عذراسکے لئے  عذر نہیں رہے گا۔  کہاوت ہے جہاں چاہ وہاں راہ۔ تو کوئی چیز کرنے کے لئے اپنے اندر چاہت پیدا کرناہوگا۔

 زبان کے تعلق سے میں کہاکرتاہوں کہ  موبائل کے پاس ورڈ کی جو حیثیت ہے ، وہی حیثیت  زبان کی ہمارے لئے ہے۔ آپ کے پاس قیمیتی موبائل ہے اور پاس ورڈ پتہ نہیں ہے تو آپ اسکے اند داخل نہیں ہوسکتے ۔ یہی حال زبان کاہے، اگر آپ کسی کی زبان بولتےہیں توگویاآپ اسکے دل میں جگہ بناتےہیں۔ نیلسن منڈیلا کاایک قول ہے جسے ذکرکرنامناسب ہوگا وہ کہتے ہیں کہ

 “If you talk to a man in a language he understands, that goes to his head. If you talk to him in his own language, that goes to his heart.”

کہ اگر کسی سے ایسی زبان میں بات کرتے ہیں جو وہ سمجھتاہے تو وہ بات اس کے دماغ میں جاتی ہے ، اگر آپ وہی بات اسکی خود کی زبان میں بولتے ہیں  تو وہ بات اسکے دل میں جالگے گی۔

اسی وجہ سے زبانوں کی اہمیت ہے۔ پچھلے زمانوں میں لوگوں نے اسکو مشنری مقصد کے لیے  استعمال کیاہے۔ ایک مشنری شخص ہیں انکا تعلق اٹلی سے تھا،  انکا نام ہے  Giuseppe Caspar Mezzofanti انکے بارے میں ہے کہ وہ تقریبا 39زبان میں بات کرتے تھے۔ یہ تقریبا سترہ سو پچھتر کی بات ہے۔

Giuseppe Gasparo Mezzofanti (17 September 1774 – 15 March 1849) was an Italian cardinal and famed hyperpolyglot.

اگر انکے مختلف ڈائلوگ کو ملادیں تو وہ تقریباسو کے قریب  زبان ہوجاتی ہے۔ وہ ہماری گجراتی زبان بھی جانتے اور بولتے تھے۔

مسلمانوں میں مشہور فارابی بھی تقریبا 70  زبان بولتے تھے۔ اسی طریقے سے    Sir John Bowring کے بارے میں ہے کہ وہ تقریبا دوسوزبانیں بولتاتھا۔

Sir John Bowring (17 October 1792 – 23 November 1872) was a British political economist, traveller, writer, literary translator, polyglot and the fourth Governor of Hong Kong.

 تو دیکھیں یہ لوگ بھی ہماری ہی  طرح تھے ، ہمارے ہی بیچ  رہتے تھے، ان کی بھی فکریں تھیں ، انکا بھی کام تھا، لیکن یہ ساری چیزیں اس وقت ہونگی جب اپنا مقصد اور مطمح نظر طے کریں۔ ترجیحات کو طے کریں، اپنا مقصد سیٹ کریں تو آج بھی ہم کچھ کرسکتے ہیں، اور آج بھی ہمارے درمیان میں سے کئی  پولی گلاٹ  بن کر نکلیں گے۔

ایک بہت بڑے مالدار بزنس مین ہیں"  Warren Buffett"  ان سے کسی نے کامیابی کاراز پوچھاتو ایک کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یومیہ پانچ سو صفحات پڑھا کریں۔  اسکے بعد انہوں نے

انہوں نے ایک قابل توجہ جملہ کہاکہ "مجھے معلوم ہے کہ آپ سب یہ کرسکتےہیں لیکن میں یقین دلاتاہوں کہ آپ میں سے بہت سے یہ نہیں کریں گے"۔

Warren Buffett: In response to a question about how to prepare for an investing career, Buffett told the students, “Read 500 pages like this every day,” while reaching toward a stack of manuals and papers. “That's how knowledge works. It builds up, like compound interest.

All of you can do it, but I guarantee not many of you will do it."

ان کے بارے میں ہے کہ اتنے مشغول شخص ہونے کے باوجود جب انہوں نے انویسٹ مینٹ کا کیریر شروع کیاتو یومیہ چھ سو سے ایک ہزارصفحات تک کا مطالعہ کرتے تھے۔ اور اسکے عادی تھے۔

 روش کمار کی زبانی کہنا چاہوں گا کہ ہمیں واٹساپ یونیورسیٹی سے نکلناہوگااور اپنے مقصد پر مکمل توجہ دیناہوگا،  واٹساپ میں داخلہ کم لیں۔ ہم ایک نہیں کئی زبانیں سیکھیں  اور  ان زبانوں پر اپنا اثر چھوڑیں ۔ زبان کے کئی فوائد ہیں ۔ آپ کسی سے اسکی زبان میں بات کرتے ہیں تو اسکادل پسیج جاتاہے ،نرم ہوجاتاہے اور آپ کی باتوں پر بھر پور توجہ دینے پر راضی ہوجاتاہے۔  آپ تجربہ کرکے دیکھ لیں۔

 حضرت عبداللہ بن زبیر کے بارے میں قصہ مشہور ہے کہ انکے تقریبا سو غلام تھے اور ہرایک الگ الگ زبان بولنے والے تھے۔ اور حضرت عبداللہ ہر ایک سے اسکی زبان میں بات کرتے تھے۔ اس سے اپنائیت پیداہوتی ہے۔

زبان سیکھنے کا طریقہ:

کسی بھی زبان کو سیکھنے کے چار اہم ذرائع اور اسکلز ہیں۔ ان میں سے Receptive Skills   ہیں اور دو  Productive Skills  ہیں ۔

یعنی لینے کے دوراستے اور نکالنے کے دو جنہیں آپ کمپییوٹر کی زبان میں ان پٹ اور آؤٹ پٹ ڈوائس  کہتے ہیں۔

رسیپٹیومیں جو  دو اہم اسکلز ہیں  وہ سننا اور پڑھناہے۔  یہ بہت ضروری ہے، سننے سے بہت سے الفاظ آپ  کے ذہن میں اتریں گے اوراسی طرح  پڑھنابھی ہے۔زبان کی بہتری کےلئے   بہت سے ایپس ہیں، ریڈیو ہیں۔  بہت سی جائز چیزیں ہیں سننے کو وہ سنیں۔ پڑھناہے اور خوب پڑھنا ہے،  پڑھیے، ٹائمز سیٹ کیجیے اور ہر بار بہتر سے بہترپڑھنے کی کوشش کیجئے۔

جب یہ کرلیں گے تو جو اگلی دو اسکلز ہیں یعنی  بولنا اور لکھنا  ، ان میں صلاحیت ضرور اچھی ہوگی۔  جب اِن پٹ اچھا ہوگاتو لامحالہ آؤٹ پٹ پر اسکا اثر پڑے گا۔   جب اس طرح کام کریں گے تو جب آپ بولیں گے تو آپ کی بات اور تحریر میں وزن ہوگاآپ کو خوداسکا احساس ہوگا۔

ایک آخری گزارش یہ ہے کہ زبان سیکھیں مگر اس سے خود میں تعلی نہ لائیں، اسے ہم اپنے درمیان صرف ایک آلہ کے طورپر رکھیں، یہ بس خداکی ایک مخلوق ہے،اسی حد تک اس کو رکھیں کہ یہ  اپنی بات رکھنے کاایک آلہ ہے۔ اس کی وجہ سے کسی کو حقیر نہ جانیں، ہر ایک اپنے میدان میں اپنے طورپرکام کررہاہے، تو زبان نہ جاننے کی وجہ سےکسی کو حقیر نہ جانیں اور کمتری کااحساس نہ دلائیں ، اگر ہمیں پتہ ہے کہ فلاں یہ زبان نہیں  جانتاہے تو اسکے سامنے یہ زبان استعمال نہ کریں۔  وآخردعوانا ان الحمدللہ رب العالمین-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مرتب: معاذ مدثرقاسمی

استاذ مرکزالمعارف  ایجوکیشن اینڈریسرچ سینٹر ، جوگیشوری، ممبئی