ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کی بقا اور لائحہ عمل

ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کی بقا اور لائحہ عمل

 
از:  محمد برہان الدین قاسمی
ڈائریکٹر: مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی
تاریخ: /31اگست،  2022مطابق 2/ صفر المظفر 1444ھ
 
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امت مسلمہ کی ظاہری شکل وصورت اور دین پر عمل پیرا ہونا باطل طاقتوں اور اسلام دشمن عناصر کی آنکھوں میں ہمیشہ کھٹکتا رہا ہے۔ اس لئے انہوں نے روز اول سے ہی اسلام دشمنی کو مسلم دشمنی کے طور پر دیکھا، مسلمانوں کے اسلامی اقدار کے ساتھ ساتھ ظاہری اعمال وعقائد کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ مدارس اسلامیہ ومساجد اور ظاہری طور پر مسلمان نظر آنے والے یعنی ٹوپی ڈاڑھی والے مرد اور برقعے والی خواتین، مسلمانوں کے وجود کی چلتی پھرتی مثالیں ہیں۔ مخالفین نے ہمیشہ ان اسلامی شعار، ظاہری اقدار اور وضع قطع کو نقصان پہونچانے کی کوشش کی ہے، یہ کوششیں ماضی میں بھی ہوئی ہیں، حال میں بھی جاری ہیں اور مستقبل میں بھی ہوتی رہیں گی۔ مسلمانوں اور خاص کر علماء حق نے ان باطل طاقتوں کا کامیابی کے ساتھ ماضی میں بھی مقابلہ کیا ہے، اس وقت بھی کررہے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے، انشاء اللہ ۔
موجودہ آسام اور یوپی کی بی جے پی قیادت والی سرکاروں کے مدارس اور مسلمانوں کے تعلق سے غیر معقول، نامناسب اور عمومی طور پر ملک اور تعلیم کے لئے نقصاندہ پالیسیز کے مد نظر زیر نظر مضمون میں ہندوستان کے مدارس کی بقا اور لائحہ عمل کے عنوان پر ہم نے چند عملی گذارشات پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ واضح رہے کہ لفظ مدرسہ بذات خود کسی خاص موضوع یا مذہب کی تعلیم کی جگہ کا نام نہیں ہے بلکہ مدرسہ عربی کا لفظ ہے جس کا انگریزی ترجمہ اسکول، کالج یا انسٹی ٹیوٹ ہوگا۔ اسی طرح ہندی اور سنسکرت میں اس کا ترجمہ پاٹھ شالہ اور ودھیالیہ وغیرہ کے طور پر کیا جائے گا۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جس طرح کچھ لوگوں کو مسلمانوں کے ظاہری وجود سے تکلیف ہوتی ہے اسی طرح ان کو مسلمانوں سے منسوب تعلیم گاہوں کے لئے مستعمل عربی لفظ مدرسہ سے بھی تکلیف ہوتی ہے نیز ان کو مسلمانوں کے خاص اقدار مثلا اذان، مساجد کے مینار، ڈاڑھی ٹوپی اور برقعے کے ساتھ ساتھ حلال خورد ونوش سے بھی دقت ہوتی ہے۔ 
ہمارے عزیز ملک ہندوستان میں کافی پہلے سے ایک گروپ مسلمانوں کے تئیں نفرت پھیلانے کا کام کرتا آرہا تھا اور 2014 سے اسی گروپ کے نمائندوں کو حکومت میں آنے کا موقع ملا پھر یکے بعد دیگرے وہ اپنے نفرتی ایجنڈوں کو عملی جامہ پہنانے میں مشغول ہوگئے۔ چاہے تین طلاق کا قانون ہو، آسام میں NRCہو، ملک بھر میں CAA-NRP کا قانون، جدید تعلیمی پالیسی (NEP 2020) ہو یا پھر آسام کے سرکاری امداد یافتہ تمام مدارس کو مکمل طور پر بند کردینا ہو، یہ سب انہی مسلم دشمنی پالیسیز کے عملی نمونے ہیں اور ہمیں اندیشہ ہے کہ اس طرح کی مسلم مخالف کاروائیاں متعدد صوبائی حکومتوں اور مرکزی حکومت کی طرف سے وقتا فوقتا آنے والے سالوں میں بھی ہوتی رہیں گی۔ ذیل میں راقم الحروف کی طرف سے علماء کرام اور دانشوران قوم کی خدمت میں کچھ مشورے اور نکات پیش ہیں: 
موجودہ مدارس میں انتظامی اصلاحات 
یہ بات واضح رہے کہ ہمارے ملک ہندوستان میں کسی بھی عوامی کام کے لئے چاہے وہ مذہبی ہو، سماجی ہو،یا تعلیمی کچھ معقول انتظامات اور اصول وضوابط موجود ہیں، مثلا کوئی بھی عوامی اور سماجی کام کو کسی ٹرسٹ یا سوسائٹی کے ماتحت ہی کیا جانا چاہئے۔ سالانہ آمدنی واخراجات کا حساب وکتاب کرکے آئی ٹی آر (انکم ٹیکس ریٹرن) فائل کیا جائے اور عوامی پیسوں کو غیر قانونی طور پر کسی بھی صورت میں ذاتی استعمال میں نہ لایا جائے وغیرہ۔ اداروں اور تنظیموں کے ذمہ داران بہر حال عوام اور بوقت ضرورت حکومت کے نمائندوں کے سامنے جوابدہ ہیں۔ہماری طرف سے جانے انجانے میں کچھ کمی اور کوتاہیاں ہو رہی ہیں جن کا ازالہ اب ناگزیر ہے، لہٰذا ہرچھوٹے بڑے مدارس کو چاہئے کہ وہ ذیل میں درج نکات پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
(1)  مدرسہ یا مکتب کو بہر صورت کسی رجسٹرڈ ٹرسٹ یا سوسائٹی کے تحت لائیں۔چھوٹے مدارس جن میں طلبہ کی تعداد 20 سے کم اور اساتذہ تین سے کم ہو ان کو قریبی ادارے کے ساتھ ضم کر دیا جائے یا ان اداروں کو مکتب کی تعلیم باقی رکھتے ہوئے پرائیویٹ اسلامی اسکول میں تبدیل کر دیا جائے۔ 
(2)  ہر ادارہ وتنظیم کا اپنا ایک کرنٹ بینک اکاؤنٹ ہو اور آمدنی واخراجات میں زیادہ سے زیادہ بینک کا استعمال کریں۔ 
(3)  بہر صورت سالانہ آئی ٹی آر فائل کریں۔ 
(4)  مدارس اور مکاتب کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ مقامی افسران سے پرائیوٹ اور مائنوریٹی اسکول کے طور پر تعلیمی نظام جاری رکھنے کی اجازت حاصل کریں۔
(5)  اگر مدرسہ اقامتی اور اس میں مطبخ و غیرہ ہے تو پہلے سے ضابطہ معلوم کر کے اس کے لئے بھی الگ سے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لیں۔ 
(6)  دارالاقامہ میں قانونی طور پر صحیح اور بچوں کے لیے صحت مند نیز صاف ستھرہ ماحول بنائیں۔ 
(7)  بچوں کے والدین یا سرپرست سے ان کی تعلیم اور مدرسہ میں قیام کے تعلق سے داخلہ فارم میں ہی الگ خانہ کے ذریعہ اجازت لی جائے۔
(8)  ہر مدرسہ یا مکتب اردو کے علاوہ مقامی زبانوں میں بھی داخلہ فارم کا استعمال کریں نیز ہر سال نئے فارم کے ساتھ داخلے کی تجدید کریں۔ تمام طلبہ کا آدھار کارڈ یا ووٹر آئی ڈی کارڈ کی فوٹو کاپی داخلہ فارم کے ساتھ منسلک رکھیں۔ مدارس کے ابنائے قدیم کی لسٹ اور ان کے متعلق ممکنہ معلومات بھی تیار رکھیں۔
(9)  اساتذہ اور ملازمین کو باقاعدہ ان سے درخواست لے کران کے مقامی پولیس کیلیرینس کے ساتھ ادارہ میں ملازمت کا موقع دیں۔
(10)  ادارے کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ وقتا فوقتا ضلعی تعلیمی افسران کے رابطے میں رہیں اور بچوں کی تعلیم وتربیت کا نظام ملک کے تعلیمی قانون RTE-2009 کے مطابق رکھیں۔ نیز ادارے کے پروگراموں میں پولیس انتظامیہ، علاقائی غیر مسلم سیاسی اور سماجی افراد کو گاہے بگاہے بلاتے رہیں۔ اسی طرح مقامی عوام اور مدارس کے محبت اور عقیدت کے تعلق کو مزید فروغ دیں۔
 
مدارس کا مالی نظام اور اصلاحات
واضح رہے کہ مسلمانوں کا کوئی بھی عوامی کام چاہے تعلیمی، مذہبی یا سماجی ہو، عوامی چندے اور تعاون سے ہی ہوتا ہے۔ مسلم دشمن عناصر کو یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہے کہ مدارس کے لئے عوام کا چندہ یا مسلمانوں کے سماجی اور رفاہی کاموں کے لئے مسلمانوں کے صدقات، عطیات اور زکوٰۃ ہی اصل ذرائع آمدنی ہیں، جس کی وجہ سے یہ تمام ادارے اور تنظیمیں اپنے اپنے اغراض ومقاصد کے اعتبار سے خدمات انجام دے پاتے ہیں۔ اس لئے ہمیں یہ اچھی طرح سے سمجھنا پڑے گا کہ مسلم مخالفین مائکرو پلانگ یعنی باریک بینی کے ساتھ منصوبہ بندی کے ذریعہ مدارس اور مسلمانوں کے غیر سرکاری اداروں کے ذرائع آمدنی پر مستقل ضرب کاری کی کوششیں کر رہے ہیں۔ چنانچہ عوام کا ایک بڑا طبقہ جو پہلے کھل کر اور زیادہ سے زیادہ تعلیمی ورفاہی کاموں میں تعاون کرتا تھا، اب وہ متعدد وجوہات کی بنا پر خاطر خواہ تعاون سے کترا رہا ہے۔ لہٰذا ذمہ داران کو چاہئے کہ مدارس ورفاہی کاموں کے لئے مندرجہ ذیل نکات پر عمل کی کوشش کریں۔
 
(1)  مقامی سطح پر ہر ادارے کو چاہے کہ عوام کو جوڑیں اور ہر گھر سے ہر ماہ کچھ نہ کچھ چندے کو یقینی بنائیں، خواہ وہ ایک مٹھی چاول یا معمولی اناج ہی کی شکل میں کیوں نہ ہو۔ 
(2)  تمام بچوں سے ان کی حیثیت کے اعتبار سے ماہانہ فیس کی وصولی کو ضروری بنایا جائے، اس لئے کہ مکمل طور پر مفت تعلیم کا نظام آنے والے وقتوں میں کافی مشکل ہوگا۔ 
(3)  مدارس اور رفاہی اداروں کو چاہیے کہ اپنی آمدنی کا 80 فیصد حصہ تعلیم، اساتذہ اور بچوں پر ہی خرچ کریں۔ بڑی بلڈنگ اور خوبصورت عمارتوں میں کم سے کم آمدنی کا استعمال ہو۔ 
(4) بے فائدہ اشتہار بازی اور جلسہ جلوس میں خرچ کرنے سے احتراز کریں نیز زکوٰۃ، صدقات اور دوسرے عطیات کو شرعی طور پر درست مصارف میں ہی استعمال کریں۔
(5)  ہر تنظیم کے ممبروں سے ماہانہ یا سالانہ کچھ نہ کچھ متعین رقم ممبر سازی کی فیس کے طور پر وصول کریں۔ 
(6)  مہتمم سے لے کر چھوٹے بڑے ملازمین کا ماہانہ مشاہرہ متعین ہو اور اس کے بارے میں ٹرسٹ یا کمیٹی کے ذمہ داران کو علم بھی ہو۔ 
(7)  مدارس کو مجموعی طور پر دوسرے تعلیمی اداروں کی طرح مالی طور پر کسی نہ کسی حد تک خود مکتفی بنانے کی کوشش کی جائے۔ 
(8)  اہل خیر حضرات اور چندہ دہندگان کا مکمل پتہ کے ساتھ لسٹ تیار رکھیں تاکہ بوقت ضرورت کام آسکے۔ 
(9)  آل آسام تنظیم مدارس قومیہ اور کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ چندے کے تعلق سے تمام مدارس کے طلبہ کی تعداد، تعلیمی معیار اور ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مدارس کی جغرافیائی حد بندی کریں۔ مثلا کسی خاص مدرسے کو اس کے اپنے اطراف اور ایک ہی تھانہ میں مالی فراہمی کی اجازت ہو، دوسرے کو کسی ایک یا اس سے زائد اضلاع میں اجازت ہو، اسی طرح سے تیسرے کو پورے صوبہ اور چوتھے کو ملک یا بیرون ملک سے بھی چندے کی اجازت ہو۔
(نوٹ: مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ یہ بہت مشکل اور تقریبا ناقابل عمل مشورہ ہے، لیکن ناممکن نہیں ہے، مدارس کے ذمہ داران مہتممین اور اساتذہ خلوص وللہیت اور عمل کے جذبے سے اگر کوشش کریں گے تو کچھ سالوں میں یہ ممکن ہو جائے گا۔)
(10)  ملک بھر کے مدارس کے لئے ہر چھوٹی بڑی تنظیم یا فرد سے تصدیق نامہ، توصیہ نامہ اور چندے کی اپیل جاری کرنے کے عمل کو فوری طور پر بند کردیا جانا چاہیے۔ اس کے مقابل مقامی ذمہ داران، صوبائی تنظیم اور رابطہ مدارس کی طرف سے جاری کردہ تصدیقات، اعداد و شمار اور گوشواروں کو حتمی سمجھ کر انہیں کے اعتبار سے ہر ایک مدرسے کو اپنے اپنے علاقے، اضلاع، صوبے یا ملک بھر میں چندہ کرنے کی اجازت ہو اور عوام کو بھی علماء کے بیانات، اخباری مضامین اورشوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ ان باتوں کی آگاہی دی جائے۔
 
مدارس کا نظام تعلیم اور ضروری اقدامات
مسلمانوں کے خلاف ناگفتہ بہ حالات ماضی میں بھی آئے ہیں مثلا بغداد، غرناطہ، بخارا اورسمرقند سے اسلام اور مسلمانوں کے تمام علمی مراکز کو مسلم دشمن طاقتوں نے ہمیشہ ہمیش کے لئے مٹانے کی کوشش کی، لیکن مسلمانوں نے صبر وتحمل اور ایمانی جذبے کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کیا۔ اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف جو حالات ہیں ان کا بھی دانائی اور ایمانی غیرت وحمیت کے ساتھ مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ بہرحال مسلمانوں کو کسی بھی صورت میں مدارس، مکاتب اور بنیادی دینی تعلیم سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔
اس لیے مسلمانوں کی بقا اور اسلام کی ظاہری شکل، صحیح عقائد اور تعلیمات اسلامی کو بچائے رکھنے کے لیے مدارس اسلامیہ، موجودہ علماء کرام اور مسلم دانشوروں کو سنجیدگی سے غور و خوص کرکے عملی جد جہد کو مسلسل اور متعدد نہج سے جاری رکھنا چاہیے۔ اس تعلق سے راقم کے ذہن میں درج ذیل نکات ہیں:
(1)  مدارس کے ذمہ داران، آل آسام تنظیم مدارس قومیہ اور کل ہند مدارس اسلامیہ کو سال اول سے لیکر تخصص کے نصابوں کا فوری طور پر از سرنو جائزہ لینا چاہیے؛ ممکن ہے کچھ چیزوں کو اس وقت چھوڑنا اور کچھ اور چیزوں کا اضافہ کرنا مدارس کے بنیادی مقاصد کے خلاف نہ ہو بلکہ مزید ثمر آور ہو۔
(2)  مدارس کو چاہیے کہ قومی تعلیمی پالیسی (2020 - NEP)  کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اپنے نصاب اور نظام تعلیم میں تبدیلی لائیں۔ 
(3)  تمام چھوٹے بڑے مدارس میں پرائمری اسکول کے صوبائی نصاب کو شامل کیا جائے۔
(4)  وسطیٰ وعلیا کی تعلیم جہاں ہوتی ہے، ان مدارس میں طلبہ کی این آئی او ایس (NIOS) کے دسویں اوربارہویں کے امتحانات میں شرکت کو یقینی بنائیں۔ 
(5)  کسی بھی تعلیمی ادارے کے معیار کا پیمانہ اس کی تعلیمی کارکردگی ہی ہے، اس لئے ہرچھوٹے بڑے مدرسے کو چاہیے کہ وہ جدید طریقہ تعلیم اور قدیم وآزمودہ مفید نظام تعلیم کے ذریعے اپنے معیار تعلیم اور افادیت کو اس کے آس پاس کے دوسرے تعلیمی اداروں سے بہتر اور مزید مؤثر بنائیں۔ 
(6)  مدارس کے ذمہ داران کو چاہیے کہ علاقے کے نوجوان اور تعلیم یافتہ لوگوں کو ادارے سے جوڑیں اور ان سے افادہ واستفادہ کا تعلق رکھیں۔ 
(7)  چھوٹے مدارس اور مکاتب کو چاہیے کہ وہ یونیورسل الیمینٹری ایجوکیشن (UEE) جو اقوام متحدہ کا دنیا بھر کے لیے پروگرام ہے، اس کے ماتحت بنیادی تعلیم کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ 
(8)  دینی اور دنیاوی تعلیم کی تقسیم سے امت کو نقصان ہوا ہے، تعلیم تعلیم ہی ہوتی ہے اس لئے تعلیم کے لئے نافع اور غیر نافع کی تعبیر کا استعمال کیا جائے۔
(9)  ہر مدرسے میں مقامی زبان کے ساتھ ساتھ بینادی انگریزی تعلیم کو ضروری طور پر شامل کیا جائے نیز وقتا فوقتا حالات حاضرہ اور معاشی، سیاسی وتاریخی موضوعات پر ماہرین کی خدمات حاصل کی جائے۔ 
(10)  تعلیمی نصاب اور گھنٹوں کے چارٹ اور تعلیمی نظام الاوقات تحریری شکل میں موجود رکھیں، نیز طلبہ کے ذہنی، اخلاقی اور جسمانی تربیت کے لئے کچھ غیر تدریسی سرگرمیوں کو بھی نظام تعلیم کا حصہ بنائیں۔
بحث ونظر 
یہ خوش کن بات ہے کہ اکیسویں صدی میں مسلمانوں کی تعداد دنیا بھر میں بشمول ہندوستان کے اضافہ ہی ہوا ہے، جو بیسویں صدی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے اور اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ آنے والے پچاس سالوں میں یعنی 2070 تک تقریبا تین ارب مسلمانوں کے ساتھ اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہوگا۔ اس لئے ہندوستانی مسلمانوں کو نہ تو مایوس ہونے کی ضرورت ہے اور نا ہی کسی قسم کی منفی سوچ کو اپنے اندر پالنے کی ضرورت ہے۔ ہم جب کسی بڑے مقصد کے لئے سفر کرتے ہیں تو کبھی کبھی ناہموار راستے آتے ہیں اور خاردار جھاڑیاں دامن گیر ہوتی ہیں، عظیم مقصد کی طرف گامزن مسافر، ان نامساعد حالات اور صعوبتوں سے گھبراکر اپنا سفر منقطع نہیں کرتا ہے اور نہ ہی تھک ہارکر بیٹھ جاتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ان کے بچوں کی صحیح تعلیم، اسلامی اقداراور جذبائے ایمانی ان کے کامیابی کی کنجی ہے۔
موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آنے والے بیس سے پچیس سال ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے مزید مشکلات بھرے ہو سکتے ہیں۔ بہرحال یہ بات بھی ہر صاحب ایمان کو معلوم ہے کہ اسلام کے روز اول سے آج تک متعدد اوقات میں مختلف طریقوں سے ظاہری اور باطنی، سیاسی، سماجی اور تعلیمی ناگفتہ بہ حالات کا مسلمانوں کو سامنا رہا ہے۔ جس وقت جیسے مناسب لگا اللہ کی توفیق سے مسلمانوں اور علماء نے ان کا مقابلہ کیا اور حالات سے نکل کر آگے بڑھتے رہے۔ آج کی تاریخ یعنی 2022 کی بات کریں تو بظاہر سیاسی امور کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمان مسائل کے شکار ہیں لیکن مجموعی طور پر دنیا بھر میں دین اسلام کا بول بالا ہے اور مقبول ترین مذہب کے طور پر ابھر رہا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اسلام ،من حیث الدین اللہ کا واحد پسندیدہ مذہب ہے، اس کا خود قرآن کریم میں اللہ نے اعلان کیا ہوا ہے (ان الدین عند اللہ الاسلام)۔ یہ ہم مسلمانوں کے لیے خوش نصیبی اور فخر کی بات ہے کہ ہم اسلام کے متبعین میں سے ہیں۔ کسی بھی مسلمان کی زندگی کا مقصد اصلی رضائے الٰہی اور جنت کی حصولیابی ہے اور یہ صرف اور صرف اللہ سبحانہ وتعالی اور اس کے رسول محمد عربی ﷺ کے طریقوں پر عمل کرنے سے ہی ہو پائے گا۔ لہٰذا مسلمان اور خصوصا علماء کرام موجودہ حالات اور اللہ کے دین سے نفرت کرنے والوں کی طرف سے تیار کردہ مسائل سے نہ تو بیجا گھبرائیں، اور نہ ہی غیر ضروری احتیاط کے شکار ہوں (ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین)۔
جنت اور اللہ کی رضا کی حصولیابی یقینا ایک بہت بڑا مقصد ہے، کسی بھی بڑے مقصد کے لئے اس مقصد کے لحاظ سے قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں، اجتماعی اور انفرادی طور پر, خدا نہ کرے، اگر کسی قسم کی قربانی ناگزیر ہو جائے تو امت کے سمجھدار افراد کو اس کے لئے بھی ذہنی طور پر مستعد رہنے اور امت کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت غفلت میں پڑے رہنے، مسلکی اور گروہی اختلافات میں الجھے رہنے اور چھوٹے وفروعی مسائل میں بحث کر کے وقت کے ضیاع اور امت کے انتشار کا متقاضی بالکل نہیں ہے۔ 
مدارس کے تعلق سے راقم الحروف کے مندرجہ بالا خیالات خاص طور پر ہندوستان کے صوبے آسام اور اترپردیش کے موجودہ بی جے پی قیادت والی حکومتوں کے ذریعے اٹھائے گئے اقدامات کے تناظر میں ہیں لیکن راقم کو لگتا ہے کہ ایسے ہی یا اس جیسے اقدامات ملک بھر میں صرف مدارس کے خلاف ہی نہیں بلکہ مساجد اور مسلم زیر انتظام غیر سرکاری اداروں اور اسکول وکالج کے خلاف بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔ اس لیے علماء کرام اور مسلم دانشوروں کی طرف سے تیار کی جانے والی ہر پالیسی مسلمانوں اور ملک کے مجموعی مفاد کو سامنے رکھ کر دور رس نتائج کے حامل ہوں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ آسام اور یوپی کے مدارس کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کھلم کھلا اور واضح طور پر ملک کو تعلیمی طور پر نقصان پہنچانے والے، بغض وعناد پر مشتمل اور ملک کی اقلیت کے خلاف ہیں۔ 
 
ممکن ہے قارئین میں سے بعض میرے خیالات اور مندرجہ بالا نکات سے بالکل متفق نہ ہوں یا بعض سے متفق اور بعض سے غیر متفق ہوں۔ بہرحال یہ واضح رہے کہ مندرجہ بالا عنوان پر یہ میرے ذاتی خیالات اور مشورے ہیں۔ امید ہے کہ اکابر علماء، مدارس اور تنظیموں کے ذمہ داران اور تعلیم سے جڑے ہوئے دانشوران کی نظروں سے یہ تحریر گزرے گی، ان میں سے جو باتیں قابل عمل اور مفید ہوں ان کو مزید غور وخوض کے لئے رکھا جائے اور جو غیر مفید اور ناقابل عمل ہوں ان کو رد کر دیا جائے۔ راقم کو قوی امید ہے کہ مدارس سے جڑے ہوئے اکابر اور عمومی طور پر علماء کرام جو بھی لائحہ عمل تیار کریں گے وہ امت اور ہمارے پیارے ملک ہندوستان کے لئے مفید ہی ثابت ہوگا۔ 
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے، وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور باطل کے شرورو فتن سے امت کو محفوظ فرمائے۔ آمین
-----------------ختم شد-----------------
 

مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ "ایسٹر کریسینٹ" کاان سےاتفاق ضروری نہیں