کیاآسام میں امیدوں کا نیا سورج طلوع ہوگا؟

M Muddassir Ahmad Qasmi
M Muddassir Ahmad Qasmi

مدثر احمد قاسمی

دیگر چار ریاستوں کے ساتھ ساتھ آسام میں الیکشن کی آمد آمد ہے ۔الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق آسام میں ۲/مرحلوں میں ۴/ اور ۱۱/اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔تمام پارٹیوں نے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کردیا ہے اورصوبائی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے بطورِ خاص اپنا اپنا رنگ دکھانے کا عمل بھی جاری کر رکھا ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس بار۱۲۶/ سیٹوں پر مشتمل آسام اسمبلی کے لئے کانگریس، بھاجپا اور اے آئی یو ڈی ایف میں سہ رخی مقابلے کے آثار نظر آرہے ہیں۔ کانگریس پارٹی ایک لمبے عرصے سے اقتدار میں ہے اسی وجہ سے اقتدار ہاتھ سے نہ جائے اسکی وہ بھر پور کوشش کریگی،جہاں تک بی جے پی کا تعلق ہے تو ۲۰۱۴ء کے لوک سبھا الیکشن میں سات سیٹوں پر قبضہ جمانے کے بعداس کی امیدیں کافی بڑھ گئی ہیں اوراگر اے آئی یوڈی ایف کی بات کریں تو اس نے مسلسل اپنی سیٹوں میں اضافہ کیا ہے اسی وجہ سے کار کردگی کو بہتر کرنے پر اس کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔
آسام کی سیاسی صورتِ حال کوسمجھنے کے لئے پہلے وہاں کی حالات کو سمجھنا ضروری ہے۔ آزاد ہندوستان میں صوبۂ کشمیر کے بعد سب سے بڑی تعداد میں مسلمان صوبہ آسام میں بستے ہیں جوکہ صوبہ میں پوری آبادی کاتقریباً ۳۳؍ فیصد ہیں۔یہ ستم ظریفی ہے کہ اتنی بڑی تعداد کے ساتھ ہمیشہ سے سوتیلا رویہ اپنا یا جاتا رہا ہے۔آسام میں مسلمانوں کو بنگلہ دیشی کے نام پرہراساں کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے جسکے نتیجے میںآسامی مسلمانوں کو اپنے ہی ملک میں غیر ملکی ہونے کی سزاجھیلنا پڑرہی ہے۔ آسامی مسلمانوں کو ۱۹۶۰ء میں پاکستانی بھگاؤ آندولن کی وجہ سے وہ تاریک ایام بھی دیکھنے پڑے ہیں جب پوری کی پوری آبادی پر پولس اور آرمی کے ذریعے یہ الزام عائد کردیا جاتا تھا کہ یہ پاکستانی ہیں اور اسی بہانے سے پوری پوری رات گشت ہوتا اور لوگوں کو جن میں اکثر بے قصور ہوتے تھے، پولس کے ذریعے گاڑیوں میں اٹھالیا جاتااور بغیر کسی ثبوت کے ان پر مقدمات چلائے جاتے۔ ۱۹۸۳ء کے بد نامِ زمانہ نیلی فساد کو کون بھلا سکتا ہے، جسمیں فرقہ پرستوں نے حیوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے منصوبہ بند طریقے سے راتوں رات سیکڑوں مسلمانوں کو موت کی نیندسلادیاتھا۔

۱۹۹۳ء، ۱۹۹۴ء ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۴میں بوڈو انتہا پسندوں کے ذریعہ مسلسل آسامی مسلمانوں کوقتل کرنے،گھروں کو خاکستر کرنے اور اپنے آبائی جگہ کو چھوڑنے پر مجبور کرنے کی داستان انتہائی اندوہناک اور کربناک ہے۔اس دوران کوکرا جھاڑ،بنگائی گاؤں اور گوالپاڑہ اضلاع میں سیکڑوں نہتے مسلمانوں کو جسمیں زیادہ عورتیں اور بچے تھے ،موت کے گھاٹ اتاراگیااوروہاں کے مسلمانوں کو کھلے آسمان کے نیچے مختلف کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور کردیاگیا۔ اس کے علاوہ سیلاب کا قہر،بے پناہ قدرتی وسائل کے موجود ہونے کے باوجود وہاں کے لوگوں کو اسکا فائدہ نہ ملنا،بے روزگاری کا عذاب اور دیگر ایسے سیکڑوں مسائل ہیں جن کو حل کرنے میں اب تک سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیاگیا۔
اوپر مذکور حقائق کی روشنی میں یہ کہنا سچ ہو گا کہ کانگریسی حکومت کی بے توجہی بلکہ بے حسی نے مظلوم آسامی مسلمانوں کے زخموں پر نشتر لگانے کا کام کیاہے۔ حیرت ہے کہ جن کی افرادی قوت سے کانگریس صوبۂ آسام میں نصف صدی سے بھی زیادہ کرسئ اقتدار پر قابض رہنے میں کامیاب رہی ہے،ان ہی کا عرصۂ حیات تنگ کرنے میں بے شرمی کا مظاہرہ کرتی رہی۔کانگریس نے حکومت کے نشے میں عملی طور پر یہ تأ ثر دینے کی کوشش بھی کی ہے کہ ان کی حکومت لازوال ہے،اگرچہ جزئی طور پر کچھ ترقیاتی کام بھی انجام پائے ہیں لیکن اسکا گراف استحصال کے مقابلہ میں انتہائی کم ہے۔ اس پس منظر میں کانگریس پارٹی کی امیدیں اس الیکشن میں دم توڑ سکتی ہیں کیونکہ جمہوری نظام میں کسی ایک پارٹی کا اپنے تئیں یہ سوچ لینا کہ ہماری حکومت لازوال ہے یا یہ کہ ہماری طاقت کو کوئی چلینج نہیں کرسکتا ،یہ خود فریبی کی ایک زندہ مثال ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اب شاہی حکومت کے تخت نشین بھی ایسا خواب نہیں دیکھتے اور ہمہ وقت تخت کھودینے کے خوف سے ہر موسم میں پسینے سے شرابور رہتے ہیں۔
جہاں تک بی جے پی کا تعلق ہے تو اب اس پارٹی کے لئے ۲۰۱۴ء جیسے حالات نہیں رہے کیونکہ ان کے اکثر وعدے وعدے ہی رہ گئے اور ملک میں عدم روادری کی لہروں نے تو بی جے پی کی قلعی ہی کھول دی ہے حالانکہ کسی بھی جمہوری ملک میں بر سرِ اقتدار جماعت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک میں بسنے والے تمام باشندوں کی بلا تفریق ہمہ جہت ترقی کے لئے کام کرے۔اس حکومت نے بطور خاص دہشت گردی کے حوالہ سے حالات ایسے پیدا کردئے ہیں کہ عام ہندوستانی کے ذہنوں میں یہ نقش ابھر نے لگا ہے کہ اس معاملہ میں حکومت ایک فریق ہے تو مسلمان دوسرا ، حالانکہ زمینی سطح پر اور حقائق کے آئینہ میں یہ ایک گمراہ کن اور غلط پروپیگنڈہ ہے۔حکومت کے اس عمل کی خطرناکی یہ ہے کہ ایک جانب عام مسلمان ناکردہ جرم کے احساس تلے دبے جارہے ہیں تودوسری طرف عام برادرانِ وطن بلا وجہ مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔غرضیکہ بی جے پی حکومت عدمِ مساوات و عدم رواداری کی بیخ کنی کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔جہاں تک ہر طرح کی مہنگائی کے آسامان چھونے کی بات ہے تو اس حکومت نے پچھلے تمام رکاڈ توڑ دئے ہیں۔مجموعی طور پر ملک کا ہر صوبہ ان حالات سے متائثر ہے، انہیں بنیادوں کی وجہ سے آسام میں بی جے پی کی امیدوں میں زیادہ دم نہیں ہے۔
اگر آل انڈیا یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ آسام اسمبلی الیکشن 2011 میں اس پارٹی کو 19/سیٹوں پرتاریخ ساز فتح ملی تھی اور اس پارٹی نے 2006 کے اپنے پہلے ہی اسمبلی الیکشن میں10 /سیٹوں پرفتح حاصل کرکے ایک مضبوط متابدل کے طور پر اپنے آپ کو پیش کردیا تھا۔اس وقت آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ آسام میں کانگریس کے بعد دوسری سب سے بڑی پارٹی ہے اور اس پارٹی کو ایک فعال اپوزیشن کے طور پر قوم و ملت کے وسیع تر مفاد کیلئے بھر پور کا م کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔جس پارٹی کے بارے میں یہ کہا جارہا تھا کہ جلد ہی یہ پارٹی دم توڑ دے گی یا کسی دوسری پارٹی میں ضم ہوجائے گی اسی پارٹی کو مولانا بدرالدین اجمل القاسمی قومی صدر آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ اور ان کے رفقاء نے جہدِ مسلسل اور بے لوث خدمت کے ذریعہ دبے کچلے اور مظلوموں کے لئے ایک مضبوط متبادل اور پناہ گاہ بنادیا ہے ۔گزشتہ پانچ سالوں کے کار کردگی کی بنیاد پرتجزیہ نگاروں کے مطابق اے آئی یو ڈی ایف ریاست میں ایک بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی اور حکومت کی تشکیل میں اسکا اہم کردار ہوگا۔چونکہ اپوزیشن سے حکومت تک کا فاصلہ صرف ایک قدم کا ہے اس لئے کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کو اس فاصلے کو طئے کرنے کیلئے اب صرف آنے والے اسمبلی الیکشن کا انتظار ہے۔
چونکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور یہاں مختلف رنگ و نسل اور مذہب کے لوگ بستے ہیں اس لئے ہمارے ملک میں وہی سیاست کامیاب ہوسکتی ہے جس میں سب کی نمائندگی ہو اور سب کے حقوق کی ضمانت ہو لہذا ذات پات اور مذہب کے نام پرکی جانے والی سیاست کے بارے میں دوام کا تصور غیر عملی ہے۔اس تناظر میں آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کی کوشش کامیاب رہی ہے کہ اس پارٹی نے لوگوں کو ترقی اور مسائل کے نام پر اک جٹ کیا ہے مذہب اور ذات پات کے نام پر نہیں اسی وجہ سے مختلف مذاہب اور قبائل کی اس پارٹی میں عملاً نمائندگی موجود ہے ۔غرضیکہ اس پارٹی نے عام روش سے ہٹ کر سیاست کرنے کی پہل کی ہے جو ملک و قوم کے حق میں ہے اور جمہوریت کی روح کو تقویت پہونچانے کے لئے ہے۔اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اے آئی یو ڈی ایف اس کامیابی کے اس سفر کو کہاں تک لے جانے میں کامیاب ہوتی ہے ۔
سب سے اہم اور ضروری کام جو آسام کے لوگوں کو کرنا ہے وہ اپنے آپ کو منظم کرنا ہے۔ بدقسمتی سے یہاں کے بھی مسلمان مختلف خیموں میں بٹے ہوئے ہیں اور انکی اجتماعی صلاحیت اسی وجہ سے کمزور بھی ہے۔یہ مسلّم ہے کہ اگر انقلاب برپا کرنا ہے تو الگ الگ خیموں میں بٹے لوگوں کو متحد کرنا ہوگا اور یہ ذمہ داری آسام کے علماء، دانشوران اور سماجی کارکنان کو نبھانی ہوگی۔ماضی کی غلطیوں سے سبق لیکر اگرآسام کے لوگ آنے والے اسمبلی الیکشن میں دانشمندی کا مظاہرہ کرینگے تو امید ہے کہ حالات میں اطمینان بخش سدھار آئے اور تعلیمی واقتصادی پسماندگی دور کرنے کی تحریک کو تقویت بھی ملے۔
(مضمون نگار ایسٹرن کریسنٹ ممبئی میں نائب ایڈیٹر ہیں)

facebooktwittergoogle_plusredditpinterestlinkedinmail