Saturday, July 20, 2024 | 1446 محرم 14
National

مسلم دوشیزاؤں کی غیر مسلموں سے شادی امت کیلئے لمحهٔ فکر

ایسٹرن کریسنٹ نیوز ڈیسک: ممبئی۔28؍اپریل: مہارشٹرا میں ممبئی کے بشمول لو جہاد کو لے کر مسلمانوں کے خلاف ایک ایسا نفرت انگیز ماحول بنایا جا رہا ہے جہاں یہ ثابت کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کے ذریعے لو جہاد مہم تحت ہندو لڑکیوں کو بھلا پھسلا کر ان سے شادی کی جارہی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں ریاستی وزیر منگل پربہت لودھا نے اس طرح کے ایک لاکھ کا خیالی اعدادو شمار پیش کیا لیکن ان کے محکمہ کو اب تک اس طرح کوئی جانکاری ہی نہیں ملی کہ ریاست میں لودھا کے مطابق لو جہاد کے ایک لاکھ معاملے سامنے آئے۔لیکن اب اس کے برعکس ایک سنسنی خیز جانکاری سامنے آئی ہے جس میں ممبئی کی متعد جگہوں پر اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت مسلم لڑکیوں کی شادی غیر مسلموں سے کی جا رہی ہے اور اس شادی کی رجسٹریشن کی تاریخوں کا اعلان بھی کیا جارہا ہے جس میں بڑی تعداد میں مسلم لڑکیاں غیر مسلموں سے شادی کر رہی ہیں۔ اس ضمن میں مسلم پرسنل لا بورڈ، علماء کونسل کے جنرل سکریٹری اور دارالعلوم امدادیہ ممبئی کے نائب ناظم محمود دریابادی کہتے ہیں کہ یہ امت کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ خاص کر والدین کے لیے کہ وہ اس پر غور کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ مذہبی شخصیت کی حیثیت سے میں اسے بہت ہی غلط مانتا ہوں۔ ہم سب کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے۔ ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے بچے مذھب کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔ وہ اپنا شمار لبرل کی فہرست میں کرانا چاہتے ہیں۔ ہمیں بچوں اور بچیوں کو تعلیم اور تربیت دونوں سے آراستہ کرنا ہوگا اور اسے روکنے کے لیے ہمیں ایک ساتھ بیٹھنا ہوگا۔واضح رہے کہ لو جہاد کو لیکر پورے مہارشٹر میں نکلنے والی ریلیوں کو لیکر سپریم کورٹ نے مہارشٹر حکومت کو کھری کھوٹی سنائی ہے کیونکہ ان ریلیوں کی پشت پناہی میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مبینہ لو جہاد اور لینڈ جہاد کو لے کر جگہ جگہ زہر افشانی کی جارہی ہے لیکن ان اعداد و شمار کے بعد کہیں بھی نہ تو کوئی ریلی نکالی گئی اور نہ ہی اس پر کسی طرح کی بیان بازی کی گئی۔ کیونکہ ان دوشیزاؤں کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔

 

Note: