Friday, May 24, 2024 | 1445 ذو القعدة 16
Qur'anic Wisdom

قرآنی دعا-5

قرآنی دعا-5

 

سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ.

رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَآ أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ.

 

ترجملہ:

ہم نے سن لیا اور قبول کرلیا، اے رب ہماری مغفرت فرمادیجیے، آپ ہی کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔

اے رب اگرہم سے بھول یا غلطی ہوجائے تو ہماری پکڑ نہ کیجئے، اے ہمارے رب ہمارے اوپر بوچھ مت ڈالئے جیسا کہ ہم سے پہلے لوگوں پہ آپ نے ڈالا تھا، اے رب ہم پرایسی بوجھ مت ڈالئے جس کی ہم میں طاقت نہیں، ہمیں معاف فرما دیجئے، ہماری مغفرت کردیجئے اور ہمارے اوپر رحم فرمادیجئے، آپ تو ہمارے پروردگار ہیں، کافروں کے خلاف ہماری مدد فرمائیے۔

تشریح:

قرآن کریم کی یہ دعاء سورہ بقرہ کی  آخری دو آیتوں  میں مذکورہے۔

عطا  سے منقول ہے کہ جب حضرت جبرئیل (ء) نے ان آیتوں کو آپ ﷺ پر تلاوت فرمایا ، تو آپ ﷺ  ہر دُعاء پر’ آمین یا رب العالمین ‘ کہتے جاتے تھے ۔( فتح القدیر) حضرت معاذ بن جبل (رض)  کے بارے میں مروی ہے کہ وہ جب اس سورہ کی تلاوت سے فارغ ہوتے تو ’ آمین ‘ کہا کرتے ، ( تفسیر طبری : ۳؍۱۰۷ ) لہٰذانماز سے باہر اور نفل نمازوں میں ان دُعائیہ آیتوں کے بعد ’ آمین ‘ کہنا چاہئے ۔   اس دعا میں پہلی قوموں پر جو مشکل احکام نازل کئے گئے تھے اس  سے پناہ چاہی گئی ، جیساکہ بنی اسرائیل کو توبہ کے طورپر قتل کا حکم دیا گیا تھا ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود(رض)  سے مروی ہے کہ آپ ﷺ  نے فرمایا : جس نے رات میں سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں تو یہ آیتیں اس کے لئے کافی ہوجائیں گی۔( بخاری) اس طرح کی اور بھی احادیث ہیں جو ان آیتوں کی فضیلت میں منقول ہیں ۔

 

Note: