Saturday, July 20, 2024 | 1446 محرم 14
Opinion

اے پی جے عبدالکلام کی کتاب "Ignited minds" کا مطالعہ اور اس کے کچھ تاثرات

 
اے پی جے عبدالکلام کی کتاب "Ignited minds" کا مطالعہ اور اس کے کچھ تاثرات
 
از: اظہارالحق قاسمی
 
کرونا کی وبا نےان دنوں فرصت دے رکھا ہے اور چاہی نہ چاہی سبھی اپنے گھروں میں مقید کچھ نہ کرنے میں مصروف ہیں۔ انھیں ایام فرصت  میں ہندوستان کے میزائل مین اور سابق صدرجمہوریہ اے پی جے عبدالکلام مرحوم کی کتاب  “Ignited minds” کا مطالعہ کرنے کاموقع ہوا۔
کلام صاحب ایک عظیم سائنسداں ہونے کے ساتھ ایک بے مثال اور عظیم مفکر بھی تھے۔ ان کی پوری زندگی ہندوستان کی خدمت اور اس کی تعمیر و ترقی کے خواب سے عبارت ہے۔ مذکورہ کتاب میں مرحوم نے ملک کی نسل نو کو برانگیختہ کرنے اور ان کی ذہنی و فکری تشجیع و تربیت کی کوشش کی ہے۔ کتاب ازاول تاآخر ہندوستان کے ہرفرد کو پڑھنا چاہیے اوراس کی روشنی میں ایک اچھے بھارت کی تعمیر کی فکر کرنا چاہیے۔ بطور خاص اس ملک کے ارباب اقتدار اور وہ نئی نسل جو مدرسوں، اسکول اور کالجوں میں پڑھ رہی ہے اس کو اس کتاب کو اپنی رہنما اورگائڈ بنانا چاہیے۔
بڑے بڑے قلم کاروں : خشونت سنگھ ، راج چنگپا، امتا ملک وغیرہ نے بھاری بھرکم الفاظ میں کتاب  کی تعریف کی ہے اور بھارت کے ہر شہری کو اس کے پڑھنے کی سفارش اور تاکید کی ہے۔کتاب کی پہلی اشاعت2002 میں پنگوئن بُکس کی طرف سے ہوئی ۔
کلام صاحب نے کتاب کا انتساب اس ایک بارہویں جماعت  کی طالبہ اسنیہال ٹھکّر کی طرف کیا ہے  جس نے اس سوال کے جواب میں  کہ ہمارے ملک  کا سب سے بڑادشمن کون ہے؟ جو کلام صاحب سے پوچھا گیا تھاتو کلام صاحب نے ہال میں موجود طلبہ وطالبات سے اس کا جواب جاننا چاہاتو بہت سے جوابات آئے لیکن اس بچی نے جو اس کا جواب دیا اس نے کلام صاحب کو اپنی یہ کتاب اس کی طرف منسوب کرنے پرمجبور کیا اور وہ جواب تھا: ہمارے ملک کا سب سے بڑا دشمن "poverty"  غربت ہے۔اور واقعی بات ہے کہ غریبی  اور ناخواندگی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جن دونوں کو دور کرنے کے لیے کلام صاحب نے اس کتاب میں بہت سے طریقے بتائے ہیں۔
کلام صاحب نے کتاب میں   باربار اپنے اس احساس کو اجاگر کیا ہے کہ ہمارا ملک اپنےپاس موجود وسائل وذرائع کے اعتبار سے اب تک ترقی یافتہ ممالک میں سے ہوجانا چاہیے تھا لیکن یہ پچاس سال سے (2002 میں ) اور اب ستر سال سے ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے۔ انھوں نے کتاب کے اندر 2020 تک ہندوستان کے ترقی یافتہ ملک بن جانے کے حوالے سے اپنے منصوبوں اورخاکوں کا ذکر کیا ہے  لیکن آج جب کہ ہم 2020 میں بیٹھے ہیں اور کلام صاحب آسودہ خاک ہیں ہماراملک جہاں تھا وہاں سے آگے کیا بڑھتامزید خستہ حال ہورہاہے۔
کتاب 185 صفحات: ایک تمہید، نوابواب اورایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔ ہرباب میں کلام صاحب نے اپنی زندگی کے تجربات اور اپنی محنت اور اپنی ٹیم کی محنت اور حصولیابیوں نیز اپنے خواب و افکار کو امثال و حکایات سے مزین کیا ہے۔ ہرباب کے شروع میں انھوں نے ایک کہاوت اور باب کے اخیر میں ایک خلاصہ بیان کیا ہے  جو واقعتاََ پڑھنے اور مایوسیوں سے نکلنے کے لیے روشن قندیل کے مانند ہیں۔ 
اس کتاب میں کلام صاحب نے ایک بہتر، ترقی یافتہ، مضبوط اور پرامن ہندوستان کابار بار خواب دیکھا اور دکھایاہے اور نسل نو سے اس خواب کی تکمیل کی آس لگائی ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت پر بہت توجہ دلائی ہے۔ انھوں نے بارباریہ پیغام دیا ہے کہ سب مل کر اس ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ لیں اور اسے ترقی یافتہ ملک بنانے کی فکر کریں۔اشاروں اشاروں میں باربار محسوس ہوتاہے کہ کلام صاحب ہندوستان کے فرقہ وارانہ اذہان سے بے پناہ شاکی تھے اور کئی بار اس کو پہچاننے اور اس سے بچنے کی طرف انھوں نے اشارہ کیا ہے۔
کلام صاحب نے نئی نسل کی تشجیع اور تشحیذ کے لیے انھیں سے گفتگوکے ایسے  بہت سے واقعات  بتائے ہیں جو ہرایک کے لیے بطور خاص نئی نسل کے لیے آب حیات کا کام کرسکتے ہیں۔
 کلام صاحب نے مادی ترقی کے ساتھ روحانی ترقی کی طرف بھی خاص توجہ دلائی ہے تاکہ مادیت کی بہتری کے ساتھ روحانیت کی ترقی بھی ہو۔ کلام صاحب سے ان کی سب سے پسندیدہ کتابوں کے بارے میں جب سوال کیا گیا توانھوں نے بتایا کہ ایسی کتابیں چارہیں اور چوتھی کتاب  کے بارے میں فرمایا:
 And the Holy Quran, of course, a constant companion. (Pg. 31)
یعنی اور قرآن  جو ہمیشہ ساتھ رہتاہے۔
مرحوم کے اس جواب کو پڑھ کر میری حیرت کی انتہانہ رہی کہ ان کو بھی قرآن سے اس قدر شغف تھا۔
کلام صاحب نے ہرچیز سے یہ سبق نکالا ہے کہ کسی طرح اس ملک کے نوجوان تعلیم یافتہ ہوں اور ملک کو بہتر سے بہتربنانے کی فکر کریں۔ اس کے لیے انھوں نے باربار ان کو مخاطب کیا ہے اور بہت امید لگائی ہے اور ان کے اندر حوصلے اور امید کی آگ لگانے کی کوشش کی ہےاسی لیے اس کا نام اگنائٹیڈ مائنڈس یعنی شعلہ باراذہان رکھا ہے۔ انھوں ملکی سیاست کو بھی اچھے ہاتھوں میں ہونے کی بات لکھی ہے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ جب تک رہنما اچھے نہ ہوں اچھے نتائج کی توقع بے سود ہے۔
مجموعی طور پریہ کتاب اندھیروں کے مسافروں کے لیے روشنی اور بہترمستقبل کی تلاش کرنے والوں کے لیے آب حیات ہے۔
دوران مطالعہ ایک احسا س یہ رہا کہ موصوف ابوالفاخرزین العابدین عبدالکلام صاحب مرحوم ومغفور کو اپنی قوم میں جو مقام ملنا چاہیے تھا شاید وہ انھیں نہیں ملا۔ اب دیکھیے نا کہ ان کی اس کتاب کی  ایک ملین سے زائد کاپیاں فروخت ہوگئیں لیکن اب تک  اس کا اردو میں ترجمہ نہیں ہوا۔ اسی طرح موصوف کے ایک سچے پکے مومن ہونے کا بھی بارہا احساس ہوا ساتھ میں ان کی  اس گھٹن کا بھی شدت کے ساتھ احساس رہا  کہ اس ملک کی فرقہ وارانہ فضا بہت آلودہ ہے جس کے خاتمے کے لیے انھوں نے بہت توجہ دلائی  ہے۔ 
میری گزارش ہے کہ جو انگریزی میں پڑھ سکتے ہیں وہ انگریزی  میں  پڑھیں کیوں کہ زبان بہت سادہ اور اسلوب بہت دلنشیں ہے ورنہ کوئی اللہ کا بندہ اس کااردو ترجمہ کردے  تاکہ موصوف کا اس کتاب کے ذریعے دیاگیاپیغام ہمارے اردو داں  نوجوانوں تک بھی پہونچے جنھیں لامحدود تعداد میں خود کو اے پی جے عبدالکلام صاحب جیسا بنانا ہے۔
اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور اس ملک میں کی خدمات کو قبول فرمائے۔
 
 
Note: